3 ریٹائرڈ فوجی جرنیلوں پر بغاوت کا مقدمہ درج! یہ تینوں کون ہیں؟ پاکستانیوں کے لیے یقین کرنا مشکل

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کیخلاف ایف آئی آر میں 3ریٹائرڈفوجی جرنیلوں پر بھی بغاوت کا مقدمہ درج کرلیا گیا، نوازشریف اداروں کو بدنام کررہاہوں، نوازشریف نے دشمن ملک بھارت کی پالیسی میں خطاب کیے، جس کی لیفٹیننٹ جنرل عبدالقیوم، صلاح الدین ترمذی، اور عبدالقادر بلوچ بھی شامل

ہیں۔سینئر تجزیہ کار حامد میر نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ مسلم لیگ ن کے قائد سابق وزیر اعظم نوازشریف کی تقاریر کو ملک دشمن قرار دیتے ہوئے ایک تھانہ شاہدرہ میں ایک رہائشی رشید ولد رشید خان نے درخواست دائر کی، جس پر ایف آئی آردرج کرلی گئی ہے۔ایف آئی آر میں مسلم لیگ ن کے سربراہ اور تین بار کے وزیراعظم پربغاوت کا الزام عائد کیا گیا ہے۔وہاں پر نوازشریف کی تقاریر کی تائید کرنے والوں کو بھی اس میں شامل کرلیا گیا ہے۔راجا ظفر الحق، شاہد خاقان عباسی، ایاز صادق، لیفٹیننٹ جنرل عبدالقیوم، صلاح الدین ترمذی، اور عبدالقادر بلوچ ، وزیراعظم آزاد کشمیر راجا فاروق حیدر، مریم اورنگزیب، عظمیٰ بخاری سمیت متعدد رہنماؤں کو شامل کیا گیا ہے۔ان پر الزام ہے کہ ان رہنماؤں نے نوازشریف کی ملک دشمن تقاریر کی ہاتھ اٹھا کر تائید کی۔ لاہور کے تھانہ شاہدرہ میں شہری بدر رشید کی مدعیت میں نواز شریف اور دیگر کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 120، 120 بی، 121، 121 اے، 123 اے، 124 اے، 153 اے اور 505 اور برقی جرائم کی روک تھام کے قانون 2016 کی شق 10 تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ مذکورہ مقدمے میں موقف اپنایا گیا کہ مجرم نواز شریف پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں سے سزا یافتہ ہے اور ان کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات اعلیٰ عدالتوں میں زیر سماعت ہے جبکہ لاہور ہائیکورٹ نے بنیادی انسانی حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں جان بچانے اور علاج معالجہ کے لیے بیرون ملک جانے کی مشروط اجازت دی اور حکومت وقت نے مخالفت نہیں کی. ایف آئی آر کے متن کے مطابق تاہم اب سزا یافتہ نواز شریف علاج کروانے کے بجائے لندن میں بیٹھ کر ایک سوچی سمجھی مجرمانہ سازش کے تحت پاکستان اور اس کے مقتدر اداروں کو بدنام کرنے کی غرض سے نفرت اور اشتعال انگریز تقاریر کر رہے ہیں مذکورہ ایف آئی آر کے مطابق مجرم نواز شریف نے اپنے 20 ستمبر اور یکم اکتوبر 2020 کے خطابات

دشمن ملک بھارت کی بیان کردہ پالیسی کی تائید میں کیے تاکہ پاکستان کا نام فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے آئندہ اجلاس میں گرے لسٹ میں ہی رہے. تھانے میں درج مقدمے کے متن میں موقف اپنایا گیا کہ نواز شریف کی تقاریر کا بنیادی مقصد پاکستان کو عالمی برادری میں تنہا کرنا اور پاکستان کو روگ اسٹیٹ قرار دینا ہے ایف آئی آر کے مطابق نواز شریف کے آل پارٹیز کانفرنس، مسلم لیگ کی سینٹرل ورکرز کمیٹی اور سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی سے خطابات میں شریک راہنماﺅں راجہ ظفر الحق، سردار ایاز صادق، شاہد خاقان عباسی، خرم دستگیر، جنرل (ر) عبدالقیوم، سلیم ضیا، اقبال ظفر جھگڑا، صلاح الدین ترمذی، مریم نواز شریف، احسن اقبال، شیخ آفتاب احمد، پرویز رشید، خواجہ آصف، رانا ثنا اللہ، بیگم نجمہ حمید، بیگم ذکیہ شاہ نواز، طارق رزاق چوہدری نے تقاریر کی تائید کی. ایف آئی آر کے مطابق سردار یعقوب نثار، نوابزدہ چنگیز مری، مفتاح اسماعیل، طارق فزاق چوہدری، محمد زبیر، عبدالقادر بلوچ، فاطمہ خواجہ، مرتضیٰ جاوید عباسی، مہتاب عباسی، جاوید لطیف، مریم اورنگزیب، عطا للہ تارڑ، چوہدری برجیس طاہر، چوہدری محمد جعفر اقبال، عظمیٰ بخاری، شائستہ پرویز ملک، سائرہ افضل تارڑ، بیگم عشرت اشرف، وحید عالم، راحیلہ درانی، دانیال عزیز سمیت ویڈیو لنک پر شریک راہنماﺅں راجہ فاروق حیدر، خواجہ سعد رفیق، امیر مقام عرفان صدیقی و دیگر نے نواز شریف کی تقاریر کو سن کر اس کی تائید کی. مختلف دفعات کے تحت درج مقدمے کے مطابق نواز شریف نیب قوانین کے تحت ایک سزا یافتہ مجرم ہے اور نواز شریف کا مقصد میڈیا پر براہ راست پاکستان کے مقتدر اداروں کے خلاف نفرت اور اشتعال انگیز تقاریر کرنا اور عوام بالخصوص اپنے پارٹی اراکین کو اداروں کے خلاف بغاوت پر اکسانا ہے جبکہ وہ لندن سے بیٹھ کر میڈیا کے ذریعے عوام کو کھلے عام بغاوت کی ترغیب دے رہا ہے تاکہ عوام ایک منتخب جمہوری حکومت کے خلاف اعلان بغاوت کریں تاکہ ملک میں آگ و خون کا کھیل کھیلا جاسکے. مذکورہ ایف آئی آر کے مطابق نواز شریف کی اس طرح کی تقاریر کا مقصد بھارتی افواج کا کشمیر پر قبضے کی کارروائیوں اور مظلوم کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم سے توجہ ہٹانا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *