یورپ میں بسنے والے سگ زمانہ قسم کے مسلمان ، اپنےو الدین کو پاگل کر دینے والی مسلمان کال گرلز اور پیرس میں لہراتا آسیہ میسح کا بینر۔۔۔۔۔ اوریا مقبول جان نے امت مسلمہ کو آئینہ دکھا دیا

لاہور (ویب ڈیسک) یورپ میں آباد مسلمان بقول افتخار عارف ’’سگِ زمانہ‘‘ ہیںجو نہ تو اپنے ملکوں میں ستائے گئے تھے اور نہ ہی ان پرکبھی عرصۂ حیات تنگ ہوا تھا۔ کوئی اکاّ دکاّ جان کا خطرہ پاکر سیاسی حالات کی وجہ سے یہاں ضرور آیا ہوگا۔ لیکن باقی تو سب فقط تلاش ِرزق میں یہاں آئے۔ نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں

۔۔۔۔۔۔ وہ بھی فاقہ زدگی سے تنگ آکر نہیں بلکہ رزق کی موجودگی میں مزید بہتر حالات کی تلاش میں یہاں پہنچے۔ مسلمانوں کے کسی ملک ، شہر یا گاؤں میں فاقہ زدگی کا عالم نہیں تھا۔ اپنے کھیت کھلیان اور کاروبار و مزدوریاں چھوڑ کریہ لوگ یورپ پہنچے۔ اس معاشی ہجرت کی جو قیمت ان لوگوں نے ادا کی ہے اس کی کہانیاں سنانے لگوں تو کئی دنوں تک شامِ غریباں کا سماں طاری رہے۔ ان میں سے ہر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اسے مسجد میں جا کر نماز پڑھنے کی اجازت ہے تو یہ سب سے بڑی رعایت ہے، جو اسے میسر آچکی ہے۔ لیکن اس رعایت کے بدلے جو نسلیں پروان چڑھی ںہیں، انہوں نے آج سے پچاس سال پہلے ہی والدین کو پاگل کر دیا تھا۔ برطانیہ کے شہر بریڈفورڈ میں 1969ء میں ایک نفسیاتی مریضوں کا ہسپتال کھولا گیا جس کا نام تھا ’’Trans cultural unit of psychiatry‘‘۔ اس ہسپتال میں مسلمانوں خصوصاً پاکستانیوں کو رکھا جاتا ہے جو دولت کمانے یہاں آئے اور جب انکی اولاد جوان ہو گئی اور وہ مغرب کی اخلاقیات میں رچ بس گئی تو انہیں دیکھ کر ان کا ذہنی توازن بگڑ گیا۔ گھرانوں کے گھرانے اور نسلوں کی نسلیں ایسی برباد ہوئیں کہ ہر کوئی ایک دوسرے سے منہ چھپانے لگا۔ دنیا کے کسی بھی تحقیقی ادارے ، خصوصاً ’’PEW‘‘ کی ریسرچ رپورٹیں اٹھا لیں انہیں پڑھ کر آپ کے پاؤں تلے زمین نکل جائیگی۔ ہجرت کرنیوالے مسلمان برباد ہوئے تو ایسے

کہ یورپ میں پیدا ہونے والی کال گرلز عورتوں میں ان کی اکثریت ہو گئی اوران میں جو کامیاب ہوئے تو ایسے کہ انہیں اپنا دین، مذہب سب چھوڑنا پڑا۔ مسلمان جن ممالک میں جمہوری طور پر ممبران پارلیمنٹ تھے، اور اگر وہاں ہومو سیکس کی شادی کا بل پیش ہوا توانہوں نے پارٹی کی پالیسی کے تحت اس کیلئے ووٹ دیا۔ اسی پیرس میں جنوری 2014ء کو جب پریڈ کے دوران ہومو سیکس شادی کے حق میں پٹیشن پر دستخط ہو رہے تھے تو سات ہزار مسلمان ایکٹیوسٹ نے بھی دستخط کیے تھے۔ ایسے مسلمانوں کی موجودگی میں کارٹون بنائے جائیں، توہین رسالت کی جائے، سب روا ہے کیونکہ وہ خود کومسلمان نہیں بلکہ ’’ فرانسیسی طرزِ زندگی‘‘ (French Life Style) کا حصہ تصور کرتے ہیں۔یہ خاکے دراصل نفرت کی ایک علامت ہے۔ آسیہ مسیح کی تصویر کابہت بڑا بینر پیرس شہر کی میونسپل کمیٹی کی عمارت پر کئی سال تک لہراتارہا اور پیرس کے مسلمان اس کے سامنے معمول کے مطابق گزرتے رہے۔کسی نے کبھی سوچا کہ ایسا کیوں کیا گیا۔۔ آسیہ مسیح کس بات کی علامت تھی ۔۔ توہینِ رسالتؐ کی علامت تھی ۔یورپ کے مسلمان شہریوں کو بتانا مقصود تھا کہ اگر کسی پر تمہارے نبیؐ کی توہین کا ’’صرف الزام ‘‘ہی آجائے وہ ہمارے لئے اتنا باعزت بن جاتا ہے کہ اس کابینر ہم کئی سال تک پیرس کی میونسپل کمیٹی کی بڑی عمارت کے باہر لگائے رکھتے ہیں۔ ورنہ آسیہ مسیح کا پیرس کے لائف سٹائل سے کیا تعلق ۔یہی رویہ ہے کہ جس استادکی وجہ سے یہ تنازعہ کھڑا ہوا، جس نے کلاس میں رسول اکرمؐ کے کارٹون اظہارِ رائے کے نام پر دکھائے تھے اور اسے ایک چیچن مسلمان نے جان سے محروم کیا ، اسے فوراً فرانس کے سب سے بڑے اعزاز’’ Legion of honour‘‘سے نوازا گیا ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.