گندم کیلئے سرکاری گودام نہ ہونے کے برابر،حکومت کو کتنے کروڑ کا ٹیکہ لگ گیا؟تفصیلات جاری

لاہور(ویب ڈیسک)ملک بھر میں گندم کے آٹے کا بحران شدت اختیار کرتا جارہا ہے اور خیرپور کے علاقے پکاچانگ میں گندم کا سرکاری گودام نہ ہونے سے 30 ہزار سے زائد گندم کی بوریاں خراب ہوگئی،حکومت کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ہے ،عملہ وزن پورا کرنے کے لئے مٹی ملاوٹ کرنے لگے ،محکمہ خوراک

ذرائع کے مطابق گزشتہ سہ ماہی کے دوران ہونے والی بارش کی وجہ سے خیرپور کے علاقے پکاچانگ میں سرکاری گندم کا گودام نہ ہونے کی وجہ سے 30 ہزار سے زائد گندم کی بوریوں میں رکھی گندم خراب ہوکر سڑنے گلی ہے عملہ گندم کا وزن پوراکرنے کے لئے اس میں مٹی ملانے لگے ہیں ،ذرائع کے مطابق محکمہ خوراک کا پکاچانگ میں گندم رکھنے کا سرکاری گودام نہ ہونے کے سبب خریدی گئی گندم غیر محفوظ ہونے اور دیگر سینٹروں میں منتقل نہ کرنے کے باعث کروڑوں روپے کی گندم خراب ہوگئی ہے ادھر علاقے کے مکینوں کاکہناتھاکہ خیرپور ضلع بھر میں آٹا 80 روپے کلو پر پہنچ گیا ہے اور محکمہ خوراک کے پاس رکھی گندم خراب ہورہی ہے یہ کونسی عوامی حکومت ہے جو عوام کو بھوک اور مہنگائی کی دلدل میں دھکیل رہی ہے اور گندم کو کیڑے مکوڑوں کی خوارک بھی نہیں بننے دیتی وہ ضایع ہورہی ہے لیکن محکمہ خوارک اور حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں ریں رہی ہے انہوں نے گندم کو محفوظ نہ رکھنے والے افسران کے خلاف محکمہ جاتی انکوائری کرکے سزا دی جائے اور پکاچانگ میں گندم کو محفوظ رکھنے کے لئے گودام تعمیر کیاجائے تاکہ گندم محفوظ رہ سکے۔ دوسری جانب کراچی (این این آئی)سندھ کابینہ نے گندم کی امدادی قیمت دو ہزار روپے فی چالیس کلو گرام اور گنے کی امدادی قیمت 202 روپے فی من مقرر کرنے کی منظوری دے دی۔وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں کابینہ کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں گندم کی خریداری کی قیمت مقرر کرنے کے ایجنڈہ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.