کورونا سے دنیا بھر کی ایئرلائنز کو نقصان

2019ء میں پی آئی اے نے 7.8ارب روپے منافع کمایا، جبکہ 2018ء میں 19.8ارب کا نقصان ہوا،پی آئی اے بہتری کی جانب گامزن ہے، وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت اجلاس
اسلام آباد ( 06 اکتوبر2020ء) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا کے باعث دنیا بھر کی ایئرلائنز کونقصان، پی آئی اے کو فائدہ ہوا، 2019ء میں پی آئی اے نے 7.8ارب روپے منافع کمایا، جبکہ 2018ء میں 19.8ارب کا نقصان ہوا،پی آئی اے بہتری کی جانب گامزن ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں 15 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔اجلاس میں ملک کی سیاسی ، سلامتی اور معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے چیف ایگزیکٹو قومی ایئرلائن کی تعریف کی اور کہا کہ پی آئی اے بہتری کی جانب گامزن ہے۔ کورونا کے باعث دنیا بھر کی ایئرلائنز نقصان میں گئیں، لیکن پی آئی اے اصلاحات کے باعث فائدے میں رہی۔وزیراعظم کی جانب سے پی آئی اے کی ری اسٹرکچرنگ کا عمل جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ 2019ء میں پی آئی اے نے 7.8ارب روپے منافع کمایا، جبکہ 2018ء میں پی آئی اے کا نقصان 19.8 ارب تھا۔ جبکہ گزشتہ سال اسی طرح 2018ء میں پی آئی اے کاآپریشنل نقصان 32 ارب تھا۔ 2019ء میں پی آئی اے کا آپریشنل نقصان 7.7فیصد رہا۔ دوسری جانب نیوزایجنسی کے مطابق پی آئی اے کی موجودہ انتظامیہ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ساتھ مل کر طیاروں کے ٹائرز کا اسکینڈل بے نقاب کردیا ہے۔
ادارے کو نقصان پہنچانے والوں کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔اس حوالے سے ترجمان پی آئی اے نے بتایاکہ سال دو ہزار سترہ میں ایویان ایرو نامی کمپنی نے پی آئی اے کو طیاروں کے ٹائرز فراہم کرنے کا معاہدہ طے ہوا تھا۔اس موقع پر میسرز ایرو ایویان نے خود کو بین الاقوامی ٹائرز کمپنی گڈائر کی نمائندہ ظاہر کیا تھا، بعد ازاں ایف آئی ا ے سے رابطے پر میسرز گڈ ائر نے ایرو ایویان سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔
ترجمان پی آئی اے نے بتایا کہ ادارے کو نقصان پہنچانے والے پی آئی اے کے اہلکاروں کا تعین کرلیا گیا ہے مزید تحقیقات کیلئے ایف آئی اے کی کارروائی جاری ہے۔ اسکینڈل سے متعلق اپنے بیان میں سی ای او پی آئی اے نے ہدایات جاری کی ہیں کہ ادارے کو بھاری مالی نقصان پہنچانے والے افراد کے ساتھ کوئی رعایت نہ برتی جائے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.

site-verification: a5f3ae327aefe7db9b1fdb6f7c6a8b26