کورونا سے ایک مرتبہ بچ جانے والوں کواگر دوبارہ وائرس لگا تو کیا خوفناک نتائج نکلیں گے؟ ناقابل یقین دعویٰ

اسلام آباد(ویب ڈیسک) نئے کورونا وائرس کو شکست دینے والے بیشتر مریضوں میں اس بیماری کی روک تھام کرنے والی اینٹی باڈیز بہت تیزی سے ختم ہوجاتی ہیں، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ پہلی لہر میں کووڈ 19 کا شکار ہونے والوں میں اب اس کے خلاف مدافعت موجود نہیں۔یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

امپرئیل کالج لندن کی اس تحقیق میں دریافت کیا گیاکہ ایک چوتھائی سے زائد افراد میں موسم گرما کے 3 ماہ کے دوران ہی اینٹی باڈیز ختم ہوگئیں۔اینٹی باڈیز کورونا وائرس کی سطح پر چپک کر اسے جسمانی خلیات اور مدافعتی نظام پر حملہ کرنے سے روکتی ہیں۔تحقیق کے مطابق اس بیماری سے دوبارہ متاثر ہونے سے بچانے والی اینٹی باڈیز 4.4 فیصد مریضوں میں جون میں 26.5 فیصد سے ستمبر میں گھٹ کر 6 فیصد رہ گئی۔ابھی جسم میں اینٹی باڈیز کی موجودگی اور کورونا وائرس سے تحفظ کے درمیان حقیقی تعلق تو واضح نہیں، مگر یہ عام نظریہ یہ ہے کہ اینٹی باڈیز کسی وائرس سے ہونے والی دوبارہ بیماری کے خلاف مزاحمت کرکے بیمار نہیں ہونے دیتیں۔اس نئی تحقیق میں عندیہ دیا گیا کہ مریضوں کی بڑی تعداد میں اینٹی باڈیز کی کمی سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ آبادی کی سطح پر امیونٹی یا اجتماعی مدافعت بھی گھٹ گئی اور دوبارہ بیمار ہونے کا خطرہ بڑھ گیا۔آسان الفاظ میں تحقیق میں بتایا گیا کہ وائرس کے خلاف مدافعت میں تیزی سے کمی آتی ہے اور اس سے کئی بار بیمار ہونے کا خطرہ بڑھتا ہے۔اس تحقیق میں شامل امپرئیل کالج لندن کے وبائی امراض کے شعبے کی سربراہ پروفیسر وینڈی بارسلے نے خبررساں ادارے رائٹرز کو بتایا ‘ہم اینٹی باڈیز کو دیکھتے رہے ہیں اور ہم اس میں کمی کو بھی دیکھ رہے ہیں، ہم جانتے ہیں کہ یہ اینٹی باڈیز تحفظ فراہم کرتی ہیں’۔انہوں نے مزید کہا ‘شواہد کی بنیاد اور جو ہم دیگر کورونا وائرسز کے بارے میں جانتے ہیں، ان کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ اینٹی باڈیز کی کمی سے مدافعت میں کمی آتی ہے تو اس سے آبادی کی سطح پر امیونٹی گھٹنے کا عندیہ ملتا ہے’۔تحقیق میں شامل پروفیسر ہیلن وارڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ تحقیق سے عندیہ ملتا ہے

کہ کووڈ کے مریضوں میں مدافعت بہت تیزی سے ختم ہوتی ہے، اینٹی باڈیز ٹیسٹوں کے پہلے مرحلے کے بعد محج 3 ماہ بعد نے اینٹی باڈیز کی سطح میں 26 فیصد کمی کو دیکھا’۔امپرئیل کالج کے پروفیسر اور اس تحقیق میں شامل پروفیسر پال ایلیٹ نے بزنس انسائیڈر کو ایک ای میل بیان میں بتایا ‘ہماری تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسے افراد جن میں پہلے وائرس کے خلاف تحفظ فراہم کرنے والی اینٹی باڈیز کا ٹیسٹ مثبت رہا تھا، ان میں وقت کے ساتھ اس کی سطح میں تیزی سے کمی آئی۔ یہ ابھی واضح نہیں کہ اس وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز کی کتنی مقدار امیونٹی فراہم کرتی ہے یا کب تک برقرار رہتی ہے’۔اس تحقیق کے نتائج ابھی کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئے مگر یہ اس نوعیت کی اب تک کی سب سے بڑی تحقیق ہے جس میں 3 لاکھ 65 ہزار افراد کو شامل کیا گیا تھا، جن کے اینٹی باڈیز ٹیسٹ 30 جون سے 28 ستمبر کے درمیان گھروں میں کیے گئے۔یہ ٹیسٹ مثالی تو نہیں مگر محققین کا کہنا تھا کہ اس طرح کے ٹیسٹوں لوگوں میں اینٹی باڈیز کی تشخیص کے لیے 80 فیصد تک درست نتائج فراہم کرتے ہیں جبکہ 98 فیصد درستگی تک بتاتے ہیں کہ کن افراد میں یہ اینٹی باڈیز موجود نہیں۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اینٹی باڈیز کی سطح میں سب سے کم ترین کمی 18 سے 24 سال کے افراد میں دیکھی گئی جو 14.9 فیصد تک گھٹ گئی۔سب سے زیادہ کمی 75 سال سے زائد عمر کے افراد میں دیکھی گئی جو 39 فیصد تک رہی۔

خاص طور پر ایسے مریض جن میں کووڈ 19 کی علامات ظاہر نہیں ہوئی تھیں، ان میں اینٹی باڈیز بہت تیزی سے غائب ہوئیں۔تحقیق کا پہلا مرحلہ جون کے آخر اور جولائی کے شروع میں ہوا تھا جس میں ہر ایک ہزار میں سے 60 افراد میں اینٹی باڈیز ٹٰسٹ مثبت رہا۔مگر سمتبر میں ٹیسٹوں کے نئے مرحلے میں یہ تعداد ہر ایک ہزار میں 44 تک گھٹ گئی، جس سے اندازہ ہوا کہ ایک چوتھائی سے زائد افراد موسم گرما اور خزاں کے دوران اینٹی باڈیز سے محروم ہوگئے۔تحقیق کے دوران طبی عملے میں اینٹی باڈیز کی سطح میں اس مشاہداتی دورانیے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، جس یہ عندیہ ملتا ہے کہ یا تو وہ ابتدا مین بہت زیادہ مقدار میں وائرس سے متاثر ہوئے تھے، یا بار بار انفیکشن اس کی وجہ ہے۔محقققین کا کہنا تھا کہ اصل حقیقت تو یہ ہے کہ کورونا کی پہلی بڑی لہر سے متاثر ہونے والے چند بڑے ممالک میں سے ایک میں آبادی کی سطح پر امیونٹی پیدا نہیں ہوئی یعنی ہرڈ امیونٹی کا امکان نہیں، بلکہ اس کی روک تھام کے لیے ایک ویکسین کی ضرورت ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.