پاکستان ایک ڈیپ سٹیٹ ہے، اسے دراصل کون چلا رہا ہے ؟ ہلیری کلنٹن کے انٹرویو کے چند اقتباسات آپ کو حیران کر ڈالیں گے

لاہور (ویب ڈیسک) امریکہ کی سابق سیکرٹری اسٹیٹ نے ایک انٹرویو میں پاکستان کو ”ڈیپ اسٹیٹ“کی اعلیٰ ترین مثال کہہ کراینکر کی جانب سے دئیے گئے ایک سوال کا جواب دیا۔گزشتہ ہفتے ایک ٹی وی انٹرویو میں جب اینکر نے ہلیری کلنٹن سے سوال کیا کہ ڈیپ اسٹیٹ کیا ہے اور اسے کن لوگوں نے متعارف

کرایااور اس کا مقصد کیا ہے تو اس سوال کے جواب میں سابق سیکرٹری اسٹیٹ امریکہ ہلیری کلنٹن نے کہ کہ ”ڈیپ اسٹیٹ“ایک اصطلاح ہے جس کے موجد منجھے ہوئے سیاسی سائنسدان ہیں جو مختلف ممالک کی سیاست پر نظر رکھتے اور سیاسی چالوں کو مختلف اصطلاحوں سے نوازتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ڈیپ اسٹیٹ ایک ایسی ریاست ہوتی ہے جہاں ملکی معاملات کچھ اور ذرائع ڈیل کرتے ہیں اور کہا کہ ڈیپ اسٹیٹ کی بہترین مثال پاکستان کی ہے کہ جہاں ملکی معاملات سول حکومت نہیں بلکہ آرمی اور آئی ایس آئی چلاتی ہے۔یعنی ملک کو آئی ایس آئی کنٹرول کرتے ہے۔اگر کوئی آرمی کے خلاف بات کرتا ہے یا انہیں پسند نہیں ہوتا یا پھر ان کی بات نہیں مانتا تو انہیں سسٹم سے نکال پھینک دیا جاتا ہے،ان کے خلاف مقدمات بنائے جاتے ہیں،انہیں قتل کر دیا جاتا ہے یا پھر انہیں جلاوطنی پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔یاد رہے کہ ہلیری کلنٹن نے یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف اپنی پریس کانفرنسز اور جلسوں میں براہ راست پاکستان آرمی اور آئی ایس آئی پر سسٹم لپیٹنے اور الیکشن میں دھاندلی کرنے کے علاوہ سیاسی بارٹر کا الزام لگاتے پھر رہے ہیں۔نواز شریف کے ہی الزام کو مدنظر رکھتے ہوئے ہلیری کلنٹن نے ڈیپ اسٹیٹ کے معاملے میں پاکستان کی مثال دی ہے۔جب سے ہلیری کلنٹن نے انٹرویو میں پاکستان کا حوالہ دیا ہے ان کا انٹرویو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیااور بین الاقوامی سطح پر بہت کچھ کہنے سننے کو مل رہا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.