ٹک ٹک پر پابندی : دراصل ڈھکے چھپے لفظوں میں چین کو کیا پیغام دیا گیا ہے ؟ بی بی سی کی رپورٹ میں حیران کن انکشاف

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان میں ٹک ٹاک پر پابندی کے بعد ٹاک ٹاک سٹارز اور ان کے فالوورز نے احتجاج کے لیے ٹویٹر سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا سہارا لیا اور رات گئے تک #tiktokban #BANNED ٹرینڈ کرتے رہے جس میں صارفین شکایت، حکام پر تنقید اور میمز شیئر کرتے نظر آئے۔

نامور خاتون صحافی منزہ انوار بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔ڈاکٹر نامی صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ ’پی ٹی آئی کی حکومت نے پہلے ان ٹک ٹاکرز کو کورونا وائرس کے متعلق آگاہی پھیلانے کے لیے مدعو کیا اور پھر ان پر پابندی ہی لگا دی۔‘رضا لکھتے ہیں ’یہ کوئی جمہوریت نہیں بلکہ ڈکٹیٹر شپ ہے۔‘کئی صارفین پریشان ہیں کہ پاکستان کی جانب سے پابندی پر چین کا کیا ردِعمل ہو گا۔عمران شفقت پوچھتے ہیں ’ٹک ٹاک ایک چینی کمپنی کی ملکیت ہے۔ امریکہ اور انڈیا کا الزام ہے کہ چین اس ایپ کو جاسوسی کے لیے استعمال کرتا ہے اس لیے انھوں نے بین لگا دیا۔ سوال یہ ہے کہ ہم نے اس پر پابندی کیوں لگائی؟ کیا ہم امریکہ اور انڈیا کے ہم خیال ہیں؟‘پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما علی وزیر اس پابندی کے حوالے سے لکھتے ہیں ’جون میں انڈیا نے اور اگست میں امریکہ نے چائنیز ایپ ٹک ٹاک بین کیا، جس کی کی وجہ سیاسی اور سفارتی تعلقات تھے۔ لیکن آج پاکستان نے ف حاشی کا الزام لگا کر بند کر دیا اگر اس سے شرمناک کیسز ختم ہوتے ہیں تو اچھی بات ہے ورنہ یہ سیاسی اور سفارتی ترجیحات کی طرف اشارہ ہے۔انور مقصد نے لکھا ’ٹک ٹاک بند ہو گیا۔ اب مہنگائی میں تیزی سے کمی آئے گی۔ غریب خوشحال ہو جائے گا۔ اپوزیشن کی کمر بھی ٹوٹ جائے گی۔‘صحافی غریدہ فاروقی ٹک ٹاک پر پابندی کی مخالفت کرتے ہوئے لکھتی ہیں ’ہم ہر چیز پر پابندی لگا کر ملک کو

کس سمت میں دھکیل رہے ہیں؟ نوجوانوں کے لیے اب یہاں کون سے مواقع باقی ہیں؟ چین کو کیا پیغام مل رہا ہے؟‘ان کا ماننا ہے کہ یہ جلد بازی اور سوچے سمجھے بغیر لیا گیا فیصلہ ہے جو جلد ہی تبدیل ہو گا۔ایک اور صارف نے تبصرہ کیا ’پابندی اچھی بات مگر ٹی وی ڈرامے بے حیائی کا سب سے بڑا سبب ہیں اُن کے خلاف تو کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا، بچوں کے ہاتھ میں موبائل اس چیز کی مشین ہے اُس کو کون روکے گا، بندش نہیں اچھی تربیت کی ضرورت ہے۔‘ایک اور صارف لکھتے ہیں کہ ’پہلی بار میں نے پاکستان میں ایک ایسا پلیٹ فارم دیکھا جہاں ایک عام آدمی اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کے علاوہ ایک کمیونٹی بنا سکتا تھا۔‘وہ مزید کہتے ہیں ’یہ واقعی بہت افسوسناک ہے کہ اس ملک میں چھوٹے طبقے کو پہلی بار ایک پلیٹ فارم پر پہچان ملی لیکن ان سے وہ چھین لی گئی۔‘لیکن جہاں اس پابندی کے خلاف تنقید اور احتجاج کرنے والوں کی کمی نہیں وہیں ایسے افراد بھی ہیں جو اس پابندی سے خوش ہیں۔انور لودھی لکھتے ہیں ’ٹک ٹاک پر پابندی اس حکومت کا بہترین فیصلہ ہے۔ یہ ایپ ہماری نوجوان نسل میں بے راہ روی کے فروغ کا سبب بن رہی تھی۔‘عاطف بلال بھٹہ نامی صارف بھی اس پابندی سے خوش دکھائی دیے۔ انھوں نے لکھا کہ ٹک ٹاک بین ہونے کی مجھے اتنی خوشی ہوئی ہے جتنی ایک شدید کنوارے بندے کو یہ سن کر ہوتی ہے کہ ’تیرا رشتہ پکا ہو گیا ای‘

۔‘ماجد بھٹی پابندی کو اچھا فیصلہ قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں ’میرا یہ ماننا ہے کہ اس ایپ سے بےحیائی، انسانی رشتوں کا مذاق بنانا اور علاقائی تعصب میں اضافہ ہو رہا تھا، اس لیے اچھا اقدام ہے۔‘یاد رہے کہ رواں سال اگست میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت ٹک ٹاک کی مالک کمپنی بائٹ ڈانس کے ساتھ کسی قسم کی لین دین پر پابندی لگائی گئی تھی۔اس حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ امریکہ کو قومی سلامتی کے پیشِ نظر ٹک ٹاک کے مالکان کے خلاف جارحانہ کارروائی کرنا ہوگی۔ٹک ٹاک ان الزامات کی تردید کرتا ہے کہ اس کے ڈیٹا پر چینی حکومت کا کنٹرول ہے یا اس تک چینی حکومت کو رسائی حاصل ہے۔ٹک ٹاک کا کہنا ہے کہ اس نے صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ تقریباً ایک سال تک مذاکرات کرنے کی کوشش کی ہے مگر ان کے ساتھ منصفانہ رویہ نہیں اپنایا گیا اور ان کا سامنا ایک ایسی انتظامیہ سے ہوا جو ‘حقائق کو چنداں توجہ’ نہیں دیتی۔اس کے علاوہ جولائی میں انڈین حکومت نے ٹک ٹاک سمیت 59 چینی ایپس پر پابندی کا اعلان کیا تھا۔چین کے ساتھ لداخ کے سرحدی علاقے میں کشیدگی کے دوران انڈین حکومت نے اس فیصلے کو ایمرجنسی حل اور قومی سلامتی کے لیے ضروری قدم بتایا تھا۔انڈیا کے وزیر اطلاعات اور نشریات روی شنکر پرساد نے اس وقت اپنی ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ‘یہ پابندی سکیورٹی، خود مختاری اور سالمیت کے لیے ضروری ہے۔ ہم انڈین شہریوں کے ڈیٹا اور پرائیویسی میں کسی طرح کی جاسوسی نہیں چاہتے ہیں۔'(بشکریہ : بی بی سی )

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.