نامور صحافی کا حیران کن مشورہ

لاہور (ویب ڈیسک) چین کو ہم کئی معاملات میں رول ماڈل کا درجہ دیتے ہیں۔ کاش ان سے آبادی کی مینجمنٹ کے حوالے سے بھی کچھ سیکھ لیا ہوتا۔ پچاس کی دہائی میں چین کی آبادی میں اضافے کی شرح تین اعشائیہ سات فیصد تھی اور وہ دور بے بی بومBaby Boom  کے نام سے مشہور ہوا۔

نامور کالم نگار ریاض احمد سید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ فی خاندان بچوں کی اوسط تعداد سات تک جا پہنچی۔ مگر جب 1971ء میں ایک بچہ ایک خاندان کی پالیسی آئی تو اطلاق دیکھنے کے لائق تھا۔ مجال ہے شہری حدود میں کسی کو ایک سے زیادہ بچے پیداکرنے کی اجازت ملی ہو۔ ماں جسے بڑے کنبے کی خواہش ہے وہدیہی علاقے میں یا پھر تبت کی طرف نکل جائے، یوں عشرہ بھر میں آبادی میں اضافہ کی شرح تین اعشاریہ سات فیصد سے کم ہوکر ایک اعشاریہ دو فیصد رہ گئی۔ غربت کے ہاتھوں پہلا شکار بچی ہوتی ہے۔ ایدھی والے جن بچوں کو جھولوں کے ذریعے نئی زندگی دیتے ہیں، ان میں 80 فیصد بچیاں ہوتی ہیں۔ جن کو یہ رفاہی اداروں کے حوالے کررہے ہیں۔ سبھی جانتے ہیں کہ آبادی میں بے پناہ اضافہ ملک کا مسئلہ نمبر ون ہے۔ مگر حکمرانوں کی منافقت اور سہل کوشی کا یہ عالم کہ کسی نے بھی اس کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ جس کی وجہ سے کشتی کا یہ سوراخ دن بدن بڑھتا جارہا ہے، جو بالآخراسے ڈبو دیگا(خاکم بدہن)۔ آنکھیں موندنے سے خطرہ ٹلتا نہیں، اس کا دو بدو مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے، جہاں آبائی گھر کا تصور تقریباً ختم ہوچکا۔ تیزی سے پھیلتی رہائشی کالونیاں زرخیز زمینوں کو نگل رہی ہیں۔ کیا کسی کو اس خوفناک حقیقت کا ادراک ہے کہ آئندہ سو برس میں کاشتکاری کیلئے زرخیز زمین سرے سے ناپید ہو جائے گی۔ بچے دو ہی اچھے کے ماٹو کی تشہیر بہت ہوچکی۔ اب اسے قانونی شکل دینا ہوگی۔ نکاح نامہ میں ایک شق کا اضافہ کیا جائے کہ نو بیاہتا جوڑا فیملی کو کتنے بچوں تک محدود رکھے گا۔ ایک بچے کا عہد کرنے والوں کی خصوصی حوصلہ افزائی کی جائے، دو سے زائد پیدا کرنے والوں پرفیملی ٹیکس لگایاجائے۔کم بچوں والوں کو سرکاری اور نیم سرکاری ملازمتوں اور قرضوں کی فراہمی میں ترجیح دی جائے۔ایک بچے کی حد سے نہ بڑھنے والے بیروزگار والدین کو گائے، بھینس خریدنے کیلئے 50/60 ہزار یکمشت امداد دی جائے۔ کم آبادی کے فیوض و برکات سے متعلق ایک باب ہر سطح کے تعلیمی نصاب میں شامل کیا جائے، تاکہ یہ تصور ابتداء ہی سے ذہنوں میں راسخ ہو جائے۔ پڑھی لکھی افرادی قوت کو آبادی میں توازن کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ گریجویشن کی ڈگری کیلئے ضروری قرار دیا جائے کہ امیدوار کم از کم دس جوڑوں کو فلاح آبادی کیلئے موٹی ویٹ کرے گا۔ سب سے اہم یہ کہ ’’بچہ گود لینے، یعنی adoptation کیلئے باقاعدہ قانون سازی کی جائے، تاکہ ضرورت سے زائد بچوں کو بے اولاد جوڑوں کی تحویل میں دیا جاسکے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *