مزار قائد سے مریم نواز کے کمرے تک کا ڈرامہ : اسکرپٹ کس نے لکھا اور کہاں کہاں کس غلطی نے سارے ڈرامے کا بیڑہ غرق کیا ؟ پہلی بار مکمل تفصیلات

لاہور (ویب ڈیسک) اتنا زیادہ شورشرابہ ہونے کے باوجود نہ آئی جی نے اپنی زبان سے اس کی تردید یا تصدیق کی ہے اور نہ ہی کسی اور ذریعے سے اس بات کو جھٹلایا گیا ہے کہ آئی جی کو صبح سویرے گھر سے نہیں لے جایا گیا۔ وزراء سارا زور اس بات پر دے رہے ہیں

نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ کہ نہ تو کمرے کا تالا توڑا گیا اور نہ ہی کیپٹن (ر) صفدر کیساتھ بدتمیزی ہوئی ، مگر یہ ایشو تو اب رہا ہی نہیں …… گرفتاری عمل میں آئی اور آئی جی گھر سے غائب ہوئے……یہ دو بڑی حقیقتیں ہیں، جنہوں نے سب کو چکرا دیا ہے…… جو نکتہ ابھی تک کسی ذریعے سے بھی حل نہیں ہوا وہ اس سوال پر مبنی ہے کہ آخر کیپٹن صفدر کی گرفتاری کا حکم کس نے دیا؟وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں، جبکہ آئی جی سندھ زیر حراست تھے، پھر یہ کھیل کس نے کھیلا، کس نے پوری صبح ہونے کا بھی انتظار نہیں کیا اور ہوٹل کے کمرے پر دھاوا بول دیا؟لگتا یہی ہے کہ لکھے گئے سکرپٹ کے مطابق بہت سی باتیں نہیں ہوئیں، یوں کام بگڑتا چلا گیا۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ فیصل واوڈا، علی زیدی اور حلیم شیخ پکار پکار کر مطالبہ کررہے تھے کہ قائداعظمؒ کے مزار پر نعرے لگوانے کے جرم میں کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔ وفاقی وزیر علی زیدی نے تو یہ وارننگ بھی دی تھی کہ پولیس نے مقدمہ درج نہ کیا تو آئی جی کے خلاف تحریک استحقاق پیش کرکے انہیں عہدے سے ہٹوا دیں گے۔ اس سے یہ شبہ ابھرتا ہے کہ حکومتی عہدیدار یہ کوشش کر چکے تھے کہ آئی جی مقدمہ درج کرنے کا حکم دیں، لیکن وہ نہ مانے…… یہ پہلی شکست تھی جو سکرپٹ میں لکھے گئے ڈرامے کو ہوئی۔

اس کے بعد آئی جی کو راہِ راست پر لانے کے لئے کانوں کو دوسری طرف سے پکڑنے کی کوشش کی گئی۔ یہ کوشش کس نے کی، کس کے ایماء پر ہوئی، اتنا بڑا قدم کس نے اٹھایا؟ ابھی یہ سب کچھ صیغہ راز میں ہے، تاہم سکرپٹ پر عملدرآمد کرانے کے جنون میں مبتلا قوتوں نے آئی جی کو بے بس کرکے اپنا مقصد حاصل کر لیا، مقدمہ بھی درج ہو گیا، گرفتاری بھی ہو گئی۔اب انتظار اس بات کا تھا کہ کسی طرح مریم نواز اور مسلم لیگ (ن) اپنی توپوں کا رخ کب پیپلزپارٹی کی طرف کرتی ہیں کہ اس نے سازش کرکے کیپٹن (ر) صفدر کو گرفتار کرایا، مگر یہاں بھی سکرپٹ کے مطابق نتائج نہیں نکلے۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) کی قیادت نے اپنے ہوش و حواس برقرار رکھے اور حقیقت کا کھوج لگانے کی کوشش کی۔ سکرپٹ لکھنے والوں کو ایک دھچکا اس وقت بھی لگا جب سندھ پولیس کے افسران اپنے سپریم کمانڈر کی توہین پر اکٹھے ہو گئے اور انہوں نے ایسے حالات میں کام کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ وہ موقع تھا جب یکدم سندھ حکومت، پیپلزپارٹی اور بلاول بھٹو کا پلڑا بھاری ہو گیا۔ جس طرح کا ردعمل سندھ پولیس کے افسروں نے ظاہر کیا، غالباً سکرپٹ لکھنے والے اس کی امید نہیں کر رہے تھے۔ یہاں تک آ کر واقعات رک گئے ہیں،لیکن سوالات اپنی جگہ موجود ہیں۔ نوازشریف اس واقعہ کو اپنے بیانیہ کی حمایت میں دلیل کے طور پر پیش کر رہے ہیں کہ ملک میں حکومت کے اوپر بھی ایک حکومت موجود ہے…… سیاست کا یہ رنگ پہلے کسی نے کب دیکھا تھا، اس سارے کھیل میں نقصان کس کا ہو رہا ہے؟…… کیا کوئی اس سوال کا جواب بھی دے گا؟

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.