قصہ نہ کہانی ایک حقیقت: قدیم یونان کے اس طاقتور ترین نوجوان کی بے پناہ جسمانی طاقت کا اصل راز کیا تھا کہ وہ بیل کو کاندھوں پر اٹھا کر چلتا تھا ؟ سبق آموز تحریر

قدیم یونان میں ایک پہلوان تھا جس کا نام مائیلوتھا۔۔۔ یہ اُس دور میں چھ دفعہ اولمپک جیت چکا تھا۔۔۔ اس پہلوان کی پہچان تھی یہ ایک بڑے بیل کو اپنے کندھے پر لے کر چلتا تھا. طاقت کا یہ نظارہ ہی اس کے مخالفین کیلئے کافی ہوتا۔۔اور۔وہ لڑنے سے پہلے ہی لڑائی ہار جاتے تھے. ۔۔۔فرض کیا آپ بھی کورڈن گاوں میں ہوتے اور دیکھتے مائیلو ایک بیل کندھے پر بٹھائے چل رہا ہے

تو آپ کیا کرتے..؟ آپ بھی ایک بیل کو اٹھانے کی کوشش کرتے اور ناکام ہو جاتے. لیکن مائیلو نے کسی کو دیکھ کر بیل نہیں اٹھایا تھا. اس نے بیل کے بچے کو سارا دن کندھے پر گھمانے سے یہ سفر شروع کیا تھا. تب شائد لوگ اس پر ہنستے ہوں گے. روزانہ بیل کے بچھڑے کو کندھے پر بٹھا کر گھومنے والے مائیلو کی طاقت بیل کے بچے کی بڑھتی جسامت کے ساتھ بڑھتی چلی گئی. یہاں تک کہ اب یہ دیکھنے والوں کیلئے حیرت کے دور میں داخل ہوگئی. مائیلو اب اس جسامت کا بیل لیکر گھوم رہا ہوتا تھا جس کا دوسرا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا. ۔۔۔ مایوسی اپنی صلاحیت اپنی طاقت اور اپنا مقام کسی ایسے فرد کے ساتھ تولنے میں ملتی ہے جس کے ماضی کے سفر سے ہم آگاہ نہ ہوں. آپ بھی یہ سفر کسی بھی وقت شروع کر سکتے ہیں، لیکن آج کے اس مقام کیلئے شروعات کا یہ سفر شرط ہے۔۔۔ علمی میدان میں پہلوان بننے کے لیے صرف ایک ہی شرط ہے اپنے سفر کا آغاز کر دیجیئے ۔۔۔ کسی کو ہرانے کےلیے نہیں بلکہ علم کے سمندر سے سیراب ہونے کےلیے۔۔۔ جتنا گہرا غوطہ اتنا سُچا موتی ۔۔۔ مولا کریم ہمیں علم کے سمندر میں سے سیراب ہونے کی توفیق بخشیں۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.