فوج سے تب ہی بات ہوگی جب عمران خان کو گھر بھیجا جائے گا۔۔!! اسٹیبلشمنٹ کے لوگ میرے اِرد گرد لوگوں سے رابطہ کر کے کیا کہہ رہے؟ مریم نواز کا بی بی سی کو انٹرویو، بہت کچھ کہہ گئیں

گلگت (نیوز ڈیسک) مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ فوج سے تب ہی بات ہو گی جب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت گھر جائے گی۔ تفصیلات کے مطابق برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ فوج سے بات کرنے کی

شرط یہی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو گھر بھیجا جائے۔پاک فوج کی موجودہ قیادت سے مذاکرات کرنے کے سوال پر مریم نواز نے کہا کہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے مذاکرات کے آغاز پر غور کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ جعلی حکومت کو گھر بھیجا جائے۔ انہوں نے کہا کہ فوج سے بات ہو سکتی ہے لیکن عوام کے سامنے، چُھپ چُھپا کر نہیں۔ مریم نواز نے انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ہمارے قریبی ساتھیوں سے رابطے کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ نے میرے ارد گرد موجود بہت سے لوگوں سے رابطے کیے ہیں مگر میرے ساتھ براہِ راست کسی نے رابطہ نہیں کیا۔ خیال رہے کہ مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے الزام عائد کیا تھا کہ آرمی چیف ان کو وزارتِ عظمی سے ہٹانے کے لیے براہِ راست ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے اسے ‘سازش’ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس میں پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل فیض بھی شامل تھے۔اس پر بات کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ فوج میرا ادارہ ہے، ہم ضرور بات کریں گے، لیکن آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے۔ اگر کوئی کریز سے نکل کر کھیلنے کی کوشش کرے گا، جو (دائرہ کار) آئین نے وضع کر دیا ہے اس میں رہ کر بات ہو گی، اور وہ بات اب عوام کے سامنے ہو گی، چھپ چھپا کر نہیں ہو گی۔ انہوں نے انٹرویو میں مزید کہا کہ میں ادارے کے مخالف نہیں ہوں مگر سمجھتی ہوں کہ اگر ہم نے آگے بڑھنا ہے تو اس حکومت کو گھر جانا ہو گا۔حکومت سے بات کرنے کے سوال پر مریم نواز کا کہنا تھا کہ ڈائیلاگ تو اب عوام کے ساتھ ہو گا اور ہو رہا

ہے اور اتنا اچھا ہو رہا ہے کہ جو بھی جعلی فورسز اور حکومت ہے ، وہ گھبرائے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب گھبراہٹ میں ایسا رد عمل دے رہے ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔ ملک میں سب سے بڑے اسٹیک ہولڈر اب عوام ہی ہیں۔نواز شریف کی جانب سے انتخابات میں فوج کی مداخلت سے متعلق ثبوت منظر عام پر لانے سے متعلق سوال کے جواب میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ میاں صاحب نے بات بعد میں کی ہے اور ثبوت خود عوام کے سامنے آئے ہیں، شوکت عزیز صدیقی، جج ارشد ملک اور ڈان لیکس کی حقیقت آپ کے سامنے ہے جب آپ ایک چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع نہیں کرتے تو وہ ڈان لیکس جیسی ایک جھوٹ پر مبنی چیز کھڑی کر دیتے ہیں۔اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا ایک اپنا مؤقف ہے، پاکستان مسلم لیگ ن کا اپنا موقف ہے جو میاں صاحب نے واضح کر دیا ہے۔ مزار قائد کی بے حُرمتی کے معاملے پر پاک فوج کی انکوائری رپورٹ سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس رپورٹ کے بعد عوام کو اُن کے سوالوں کے جواب ملنے کی بجائے مزید سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اداروں کا کام جذبات کے ساتھ نہیں ہے، اور ان کا کام ہے اپنی آئینی اور پیشہ وارانہ ذمہ داریاں نبھانا ہے اس میں جذبات کا کوئی عمل دخل نہیں اور اگر واقعی کسی نے یہ جذبات میں آ کر کیا ہے تو یہ تو ادارے کے لیے اور پاکستان کے لیے بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے۔میں سمجھتی ہوں کہ ایسا نہیں ہوا، چند جونیئر افسران کو قربانی کا بکرہ بنا دیا گیا، یہ غلط بات ہے۔ مائنس عمران خان یا ان ہاؤس تبدیلی کے سوال پر مریم نواز کا کہنا تھا کہ مائنس عمران خان دیکھا جائے گا۔ اس حوالے سے میں مزید کچھ نہیں کہوں گی لیکن یہ دیکھا جائے گا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *