طلاق کے بعد 3میں دن بچوں کے ساتھ بھوکی پیاسی پڑی رہی اور کسی نے۔۔۔ جانیں اس دکھی عورت کی حیرت بھرپاکر دینے والی کہانی

این این ایس نیوز! شادی شدہ زندگی کامیاب اُسی صورت میں ہوتی ہے جب دونوں میاں بیوی آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ مل بانٹ کر رہیں اور ایک دوسرے کی عزت کریں، لیکن جہاں جھوٹ، دھوکہ، فریب اور غلط فہمیاں پیدا ہوجائیں تو رشتے کمزور پڑ جاتے ہیں اور بلآخر رشتے ٹوٹ جاتے ہیں۔

ایسا ہی کچھ واقعہ پیش آیا پاکپتن میں، جہاں شوہر نے بیوی کو 14 سال بعد 3 بچوں کی موجودگی میں یہ کہہ کر طلاق دے دی کہ ” مجھے تمھاری شکل نہیں پسند ” ۔

اس کے بعد اس کو 3 دن تک گھر میں بند رکھا اور پھر ضروری سامان کے ساتھ گھر سے باہر نکال دیا، ماں کے ساتھ بڑے بیٹے راحیل کو بھی روانہ کر دیا مگر چھوٹے 2 بچوں (8 سالہ بیٹی اور 4 سالہ بیٹے) کو اپنے پاس رکھ لیا، بیوی 5 دن تک پاکپتن میں بابا فرید کے مزار پر بیٹے کے ساتھ بیٹھی رہی۔عصمت نے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں تفصیلات بتاتے ہوئے اپنی درد بھری کہانی سنائی کہ

میرے شوہر نے مجھ سے دھوکے سے شادی کی تھی، نصرُاللہ ایک سُنار ہے، اس کی خواہش تھی کہ اس کی شادی کراچی کی کسی لڑکی سے ہو، اور اس نے کراچی میں مقیم ایک رشتے والی خاتون سے رابطہ کیا اور اپنی خواہش کا اظہار کیا، اس نے اپنی نجی معلومات دیتے ہوئے بتایا کہ :

” میری والدہ کا انتقال ہوگیا، والد پہلے ہی دنیا سے رخصت ہوگئے تھے، نہ کوئی بھائی ہے اور نا کوئی بہن میں گھر میں اکیلا ہوں اور پاکپتن میں رہتا ہوں۔”

جس پر رشتے والی نے اعتماد کر لیا اور لڑکی کی تلاش جاری رکھی۔ رشتے والی خاتون ہمارے محلے میں رہتی تھیں انہوں نے میری امی کو لڑکے کے بارے میں بتایا جس پر امی نے بھی یہی سوچا کہ سنار ہے تو میری بیٹی آرام سے زندگی گزار لے گی۔ اور امی رشتے والی کے ساتھ پاکپتن میں اس کے گھر گئیں، اس نے جن لوگوں سے ملوایا، انہوں نے جو کچھ بتایا سب کو سچ مان لیا جبکہ وہ تمام لوگ جھوٹ بول رہے تھے اس بات کا کسی کو اندازہ نہیں تھا اور محض 15 دن میں ہماری شادی ہوگئی۔

شادی کے بعد کچھ روز کراچی میں رہے اور شادی کی رات ہی اس نے مجھے سب سچ بتا دیا کہ میں نے جھوٹ بول کر شادی کی ہے، اب چاہو تو مجھ سے طلاق لے لو میں ابھی طلاق دینے کے لئے تیار ہوں، لیکن اگر میرے ساتھ پاکپتن جانا چاہتی ہو تو چلو میں کبھی تمھاری آنکھوں میں آنسو نہیں آنے دوں گا۔

میں نے اپنے والدین کی عزت بچانے کی خاطر ہاں کردی اور شوہر کے ساتھ چلی گئی، پہلے کچھ روز ہوٹل میں گزارے اور اس کے بعد اپنے گھر میں لے گیا، جہاں میری ساس نے مجھے رکھ تو لیا مگر قبول نہ کیا، میرے سسر اچھے انسان تھے مگر ان کی وفات کے بعد میں بہت اکیلی ہوگئی۔

میرے شوہر کے کئی خواتین کے ساتھ رابطے تھے، ایک دن مجھے میرے بیٹے راحیل نے بتایا کہ مما ، میں نے پاپا کے واٹس ایپ پر میسجز دیکھے ہیں، جو سُن کر میں نے شوہر پر نظر رکھی تو معلوم ہوا کہ وہ بیک وقت کئی خواتین کے ساتھ رابطے میں تھا اور مجھ سے جھوٹ بولتا تھا۔

ایک روز میں نے کہا کہ آپ کی بھی ایک بہن ہے، بیٹی ہے آپ نے میرے ساتھ دھوکہ کیا اور اب بھی کر رہے ہیں آخر کیوں میری کیا غلطی ہے، جس پر شوہر نے مجھ پر میرے کردار پر جھوٹے الزام لگائے ، اور کئی مرتبہ مجھے کہا کہ تمھیں طلاق دیتا ہوں، مگر اس مرتبہ نصر نے مجھے بچوں کے سامنے کہا کہ:

” جاؤ میں نے تمھیں فارغ کیا، مجھے تمھاری شکل تک نہیں پسند”۔ اس کے بعد مجھے 3 دن تک قید میں بند رکھا اور میرے گھر والوں کو فون کر کے کہا کہ لے جاؤ اسے یہاں سے میں نے اس کو طلاق دے دی ہے۔

3 دن بعد مجھے کہا کہ اپنا سامان اٹھاؤ اور جاؤ یہاں سے، میرا بیٹا میرا سامان رکشے میں رکھ رہا تھا تو یہ بھی ساتھ آگیا۔ میرے شوہر نے پہلے ہی مجھے کہ دیا تھا کہ راحیل کو لے کر اپنے گھر چلی جانا، میں اس کو نہیں رکھوں گا، اور باقی دونوں بچوں کو میرے ساتھ نہ آنے دیا۔

اس کے بعد میں نے 5 دن بابا فرید کے مزار پر بیٹھ کر اپنے گھر والوں کا بھوکے پیاسے رہ کر انتظار کیا۔ اور جب سے گھر واپس آئی میں نے پولیس اسٹیشن کے اور کورٹ کے چکر لگائے مگر پاکپتن کی پولیس تعاون نہیں کر رہی اور ایس ایس پی سمیت دیگر عملہ میرے جیٹھ کے ساتھ مل کر اس معاملے کو رفع دفع کرنے کی کوششوں میں لگا ہوا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.

site-verification: a5f3ae327aefe7db9b1fdb6f7c6a8b26