صف اول کے صحافی کا بڑا دعویٰ

لاہور (ویب ڈیسک) قا رئین کرام، آ پ اچھی طر ح جا نتے ہیں کہ پچھلی کئی دہا ئیو ں سے وطنِ عز یز کو نئے ڈیمز بنا نے کی ضرورت کا سامنا ہے۔ ان ڈ یمز کی تعمیر میں جو مشکلا ت آ ڑے آ تی ہیں،ان کا تعلق سیا سی اور معا شی مجبو ریو ں سے ہے۔

نامور کالم نگار ڈاکٹر ابراہیم مغل اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔تاہم اگر بنظرِغو ر ان مشکلا ت کا جا ئز ہ لیا جا ئے تو ہم دیکھتے ہیں کہ ان کا تعلق سیا سی مجبو ریو ں سے اتنا ز یا دہ نہیں جتنا زیا دہ ان کا تعلق ملک کی معا شی مجبو ریو ں سے ہے۔ز ما نہِ حا ل میںبھا شا ڈیم بنا نے کی با تیں ہو رہی ہیں۔ بھا شا ڈیم کی تعمیر کے لیئے جو لو کیشن مختص کی گئی ہے ، وہ پا ک چا ئینا با رڈر سے تین سو بیس کلو میٹر دور شما ل میں وا قع ہے۔ فنڈ ز کے حصو ل کے لیئے حکو متِ پا کستان نے ورلڈ بینک اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے علا وہ اپنے مغر بی دو ست مما لک کے دروا زے پہ دستک دی۔ مگر کہیں سے بھی حو صلہ افزا جوا ب نہ ملا۔ سوا ل پیدا ہو تا ہے کہ کیا ہم وا قعی اسقد ر تہی دست ہیں کہ ہما رے اپنے پلے ڈیمز بنا نے کے لیئے ایک ٹکہ تک نہیں ہے؟نہیں صا حبو ایسا نہیں ہے۔ ہم سب جا نتے ہیں کہ اس ملک میں رہا ئشی ارا ضی کی قیمتیں آ سما ن سے با تیں کر رہی ہیں۔ مگر اسی ملک میں بیو رو کر یٹس کو حکو مت کی جانب سے جو رہائشی کو ٹھیاں الا ٹ کی گئی ہیں ، صر ف انہی کو فروخت کر کے جو رقم حا صل ہو گی، وہ ان ڈیمز کی تعمیر میں بہت بڑا کر دار ادا کر نے کی اہل ہو گی

۔آ پ کی دلچسپی کے لیئے ان میں سے چند ایک کی تفصیل کچھ یو ں ہے۔ کمشنر سرگودھا کی رہائش گاہ ایک سو 4 کنال پر محیط ہے۔ یہ پاکستان میں کسی سرکاری ملازم کی سب سے بڑی رہائش گاہ ہے۔ اس کی نگہداشت، مرمت اور حفاظت کے لیے 33 ملازم ہیں۔ دوسرے نمبر پر ایس ایس پی ساہیوال کی کوٹھی آتی ہے۔ اس کا رقبہ 98 کنال ہے۔ ڈی سی او میانوالی کی کوٹھی کا سائز 95 کنال اور ڈی سی او فیصل آباد کی رہائش 92 کنال پر تعمیر شدہ ہے۔ صرف پنجاب پولیس کے سات ڈی آئی جیز اور 32 ایس ایس پیز کی رہائش گاہیں 860 کنال پر مشتمل ہیں۔ ڈی آئی جی گوجرانوالہ 70 کنال، ڈی آئی جی سرگودھا 40 کنال، ڈی آئی جی راولپنڈی 20 کنال، ڈی آئی جی فیصل آباد 20 کنال، ڈی آئی جی ڈیرہ غازی خان 20 کنال، ڈی آئی جی ملتان 18 کنال اور ڈی آئی جی لاہور 15 کنال کے محلات میں رہتے ہیں۔ ایس ایس پی میانوالی کا گھر 70 کنال، ایس ایس پی قصور 20 کنال، ایس ایس پی شیخوپورہ 32کنال، ایس ایس پی گوجرانوالہ 25 کنال، ایس ایس پی گجرات 8 کنال، ایس ایس پی حافظ آباد 10 کنال، ایس ایس پی سیالکوٹ 9 کنال، ایس ایس پی جھنگ 18 کنال، ایس ایس پی ٹوبہ ٹیک سنگھ 5 کنال، ایس ایس پی ملتان 13 کنال، ایس ایس پی وہاڑی 20 کنال، ایس ایس پی خانیوال 15 کنال، ایس ایس پی پاکپتن 14 کنال، ایس ایس پی بہاولپور 15 کنال، ایس ایس پی بہاولنگر 32 کنال،

ایس ایس پی رحیم یار خان 22 کنال، ایس ایس پی لیہ 6 کنال، ایس ایس پی راولپنڈی 5 کنال، ایس ایس پی چکوال 10 کنال، ایس ایس پی جہلم 6 کنال، ایس ایس پی اٹک 29 کنال، ایس ایس پی خوشاب 6 کنال، ایس ایس پی بھکر 8 کنال، ایس ایس پی راجن پور 37 کنال اور ایس ایس پی نارووال 10 کنال کی سرکاری عمارات میں رہائش پذیر ہیں۔ صرف پولیس کے ان سرکاری محلات کی حفاظت، مرمت اور تزئین و آرائش پر ہر سال 80 کروڑ روپے سے کچھ اوپر خرچ ہوتے ہیں۔ 2 ہزار 6 سو 6 کنالوں پر مشتمل ان رہائش گاہوں کی نگہداشت کے لیے 30 ہزار ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ ملازمین ہیں۔ صرف ان کے لانوں پر 18 سے 20 کروڑ روپے سالانہ خرچ ہوتے ہیں۔ ایک سرکاری اندازے کے مطابق یہ تمام رہائش گاہیں شہروں کے ان مرکزی علاقوں میں ہیں جہاں زمین کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ لہٰذا اگر یہ تمام رہائشیں بیچ کر رقم واپڈا کو دے دی جائے تو واپڈا کو چار سال تک بجلی کی قیمت بڑھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اگر یہ رقم ہائی وے کو دی جائے تو وہ موٹر وے جیسی دو سڑکیں اور کراچی سے پشاور تک نیشنل ہائے وے جیسی مزید ایک سڑک بناسکتی ہے۔ اگر یہ رقم محکمہ صحت کے حوالے کردی جائے تو یہ محکمہ پاکستان میں ــ’’پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز‘‘ جیسے 70 ہسپتال بناسکتا ہے۔ اگر یہ رقم ’’واسا‘‘ کے حوالے کردی جائے تو وہ اس رقم سے سمندر کا پانی صاف کرنے کے 12 پلانٹ لگاسکتا ہے۔

جس سے ملک کے 45 فیصد لوگوں کو پینے کا پانی مل سکتا ہے۔ دنیا بھر میں سرکاری رہائشیں سکڑ رہی ہیں۔ آپ برطانیہ چلے جائیں آپ کو 10 ڈائوننگ سٹریٹ (وزیراعظم) سے لے کر چیف کمشنر تک اور ڈپٹی سیکرٹری سے ڈپٹی وزیراعظم تک سب افسر اور عہدیدار دو دو تین تین کمروں کے فلیٹس میں رہتے دکھائی دیں گے۔ اب امریکہ چلے جائیں وہائٹ ہائوس کو دیکھیں دنیا کا صدارتی محل پنجاب کے گونرر ہائوس سے چھوٹا ہے۔ جاپان میں تو وزیراعظم ہائوس تو سرے سے ہے ہی نہیں۔ یہ بڑی بڑی مملکتوں کے سربراہان کی صورت حال ہے۔ رہے سرکاری ملازم بیوروکریٹ، اعلیٰ افسر اور عہدیداران، تو آپ پورا یورپ پھریں آپ کو یہ لوگ عام بستیوں کے عام فلیٹوں میں عام شہریوں کی طرح رہتے نظر آئیں گے۔ ان کے گھروں میں لان ہوں گے، ڈرائیو وے اور نہ ہی لمبے چوڑے نوکر۔ لیکن یہاں آپ ایک ضلع سے دوسرے ضلع کا دورہ کرلیں آپ کو تمام بڑی عمارتوں، تمام بڑے محلات میں ضلع کے ’’خادمین‘‘ فروکش نظر آئیں گے۔ خلقت خدا مر رہی ہے اور ان کے افسر ٹیکسوں کی کمائی پر پلنے والے باغوں میں جھولے ڈال کر بیٹھے ہیں۔ تو صا حبو ملا حظہ فر ما یا آ پ نے کہ اس ملک کے با سی کس طر ح کے دو ہرے معیا ر کے تحت ز ند گی بسر کر رہے ہیں۔ میں پو چھتا ہو ں کہ کیا یہ چشم کشا حقا ئق ورلڈ بینک، ایشین دو یلپمنٹ بینک اور ہما رے دوست مما لک کی نظرو ں سے پو شید ہ ہو ں گے جو وہ ہما ری پسا ری ہو ئی جھو لی میں ہمیشہ کچھ نہ کچھ ڈ التے رہیں گے؟

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

site-verification: a5f3ae327aefe7db9b1fdb6f7c6a8b26