سابقہ شوہر سے بدلہ لینے لیے خاتون نے اُن کی مرضی کے بغیر اور لاعلمی میں اُن سے ہی دوبارہ شادی کر لی

نیوز ڈیسک! ایک فرانسیسی خاتون  کو اپنے سابقہ شوہر سے اُن کی مرضی  کے بغیر اور اُن کی لاعلمی میں شادی کرنے پر 10  سال قید اور 1 لاکھ 50 ہزار یورو کا بھاری جرمانہ ہو سکتا  ہے۔ ان خاتون نے اپنے شوہر سے طلاق کے بعد بدلہ لینے کے لیے دوبارہ شادی کی تھی تاکہ وہ

اپنی زندگی میں آگے نہ بڑھ سکیں۔ ایک خاتون، جن کا نام نہیں بتایا گیا،   ایل-دو-فرانس کے علاقے  بلند-دو-سین میں اعلی درجے کی جج  کے طور پر کام کر رہی تھیں۔رپورٹس کے مطابق ان خاتون کے شوہر نے انہیں ایک دوسری عورت کے لیے  طلاق دے  دی تھی۔ یہ خاتون جس وزیر کو  عدالتی قانونی مشاورت دیتی رہی تھی، اُن کے شوہر نے اسی وزیر کی بہن سے شادی کرنے کے لیے انہیں  چھوڑا تھا۔ان خاتون کا منصوبہ تھا کہ اپنے شوہر کی لاعلمی کے بغیر اُن سے شادی کر لیں تاکہ وہ اپنی زندگی میں آگے نہ بڑھ سکیں۔ رپورٹ کے مطابق 58 سالہ خاتون سے اپنے شوہر کا اس  وزیر کی بہن سے شادی کرنا برداشت نہ ہوا جنہیں وہ قانونی مشاورت دیتی تھیں۔ بتدریج انہوں نے اپنے شوہر، جو خود بھی وکیل ہیں، کو مزہ چکھانے کے لیے انوکھا منصوبہ بنایا۔ مارچ 2019 میں انہوں نے جعلسازی سے ضروری کاغذات بشمول جعلی شناختی کاغذات تیار کیے اور ایک شخص کو اپنا شوہر ظاہر کر کے سینٹ-ڈینس، رانوں کے میئر کے سامنے شادی کر لی۔اس وقت وہ سینٹ-ڈینس، رانوں میں ہی جج کے فرائض سر انجام دے

رہی تھیں۔ یہ منصوبہ کامیاب رہا لیکن زیادہ عرصے راز نہیں رہا۔ چند ہفتوں بعد خاتون جج کا تبادلہ  بلند-دو-سین میں ہوگیا۔ تبادلے کے بعد  اُن کی ایک کولیگ کو پتا چل گیا کہ خاتون جج نے اپنے سابقہ شوہر سے ہی  شادی   کی ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ باتیں عدالتی نظام میں تیزی سے پھیلی اور جلد ہی خاتون کے سابق شوہر کو بھی اس کے بارے میں معلوم ہوگیا۔ خاتون کے شوہر نے حکام کو اس بارے میں مطلع کیا اور معاملے کی تحقیقات شروع کر دیں گئیں۔

11 دسمبر کو پولیس نے خاتون جج،  شوہر بننے والے شخص اور خاتون کی بیٹی ، جنہیں اس منصوبے کا علم تھا، کو اپنی تحویل میں لےلیا۔ ان افراد کو بعد میں رہا  کر کے عدالتی نگرانی میں رکھا گیا۔

خاتون جج پر جعلسازی اور دھوکہ دہی کے کئی الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ وہ ابھی تک جج کا  لقب استعمال کر سکتیں ہیں لیکن  فی الحال وہ معطل بھی  ہیں۔ فرانسیسی میڈیا کے مطابق خاتون کا کیس  فوجداری عدالت کو منتقل کیا جا سکتا ہے۔ ایسی صورت میں خاتون کو 10 سال تک قید اور 1 لاکھ 50 ہزار یورو جرمانہ ہو سکتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.

site-verification: a5f3ae327aefe7db9b1fdb6f7c6a8b26