روزویلٹ ہوٹل کے کمرہ نمبر 1408 کے بارے میں نیو یارک میں کیسے کیسے قصے مشہور ہیں، وہاں کون کون سی شخصیات کا قیام رہا ہے ؟ ہوٹل کو بند کیے جانے کے حوالے سے چند ناقابل یقین حقائق

نیو یارک (ویب ڈیسک) پی آئی اے کی ملکیت نیویارک کا روز ویلٹ ہوٹل اپنے سرکاری اعلان کے مطابق 31 اکتوبر سے بند ہونا ہے اور اطلاعات کے مطابق نیب نے اس ہوٹل کے مستقل بند کئے جانے کا نوٹس لیتے ہوئے ہوٹل بند کرنے کی وجوہات کی تحقیقات کا فیصلہ بھی کر لیا ہے۔

نامور صحافی ایم عظیم میاں اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ہوٹل کے ایک سابق گیسٹ اس ہوٹل کے کمرہ نمبر 1408 کے آسیب زدہ کمرہ میں موجودگی کی تردید بھی کر چکی ہیں لیکن روز ویلٹ ہوٹل کے موجودہ زمینی حقائق ہوٹل کی انتظامیہ کے مؤقف کے تمام دعوئوں کی کھلی تردید کر رہے ہیں۔ نمائندہ جیو نے جب ہوٹل کے زمینی حقائق جاننے کیلئے مقامی تاریخ منگل 13 اکتوبر کی رات 9 بجے خود روز ویلٹ ہوٹل پہنچ کر جو چشم دید مشاہدہ کیا اور تصدیق کیلئے جو تصاویر اور وڈیو بنائی اس کے مطابق ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہوٹل عملی طور پر مہمانوں کیلئے نہ صرف 31 اکتوبر سے قبل ہی عملاً بند کیا جا چکا ہے بلکہ کمرہ نمبر 1408 کے بھوتوں نے عملاً فرنٹ ڈیسک سمیت پورے ہوٹل پر قبضہ کر رکھا ہے۔تفصیلات کے مطابق جب نمائندہ جیو روز ویلٹ ہوٹل کے پچھلے دروازہ واقع 46 اسٹریٹ اور میڈیسن ایونیو پر پہنچا تو وزیراعظم عمران خان،سابق صدر مشرف اور دیگر شخصیات کیلئے استعمال ہونے والے گیٹ کےتمام دروازے مکمل طور پر تالے لگا کر بند کر کے ایک نوٹس لگا ہوا تھا کہ 45 اسٹریٹ پر واقع داخلے کا مین گیٹ استعمال کیا جائے۔ ہوٹل کی گرائونڈ فلور پر واقع مہنگےاسٹورز کے شوکیس کی روشنیاں بدستور آن تھیں،

جب یہ نمائندہ چل کر ہوٹل کے مین گیٹ 45 اسٹریٹ پر پہنچا تو یہاں بھی ہوٹل کی لابی فرنٹ ڈیسک اور داخلے کیلئے تمام دروازوں پر تالے لگا کر ایک پیلے ربن کے پھیلائو سے بند ہونے کا ثبوت واضح تھا۔البتہ کونے میں ایک نوٹ پر لکھا تھا کہ داخلے کیلئے گھومنے والا ریوالونگ (Revoloving) ڈور استعمال کیا جا سکتا ہے جبکہ ہوٹل کے باہر لگے شیشوں سے ہوٹل کا اندرونی منظر بھی بالکل ویران تھا۔اس ریوالونگ ڈور کے ذریعے جب یہ نمائندہ ہوٹل میں داخل ہوکر ہوٹل کی لابی اور فرنٹ ڈیسک کی سیڑھیاں طے کر کے ہوٹل کی لابی میں پہنچا تو مدھم لائٹس، خالی اور خاموش فرنٹ ڈیسک، ہوٹل لابی میں کسی بھی گیسٹ، عملہ اور کسی بھی انسان کی عدم موجودگی ایک عجیب منظر پیش کر رہا تھا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.