دنیا کا رواج ہے یہاں چار چیزیں ہاتھوں ہاتھ بکتی ہیں ، شراب ، عورت ، خوشبو اور اسلحہ ۔۔۔۔ لیو کمپنی کے بائیکاٹ کا کوئی فائدہ نہیں ، اگر فرانس کو مزہ چکھانا ہے تو یہ کام کیجیے ۔۔۔۔ پاک فوج کے سابق افسر کا زبردست مشورہ

لاہور (ویب ڈیسک) میں نے عرض کیا تھا کہ فرانس کے صدر نے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کا جواز بیان کرکے جس دریدہ دہنی کا ثبوت دیا تھا اس سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی ہے۔ اس حرکت کی مذمت ہمارے وزیراعظم نے بھی کی اور ترکی کے طیب اردوان

اس میں پیش پیش ہیں۔ نامور کالم نگار اور سابق آرمی افسر لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔اس کا ردعمل مسلم دنیا میں یہ ہوا کہ بعض ملکوں نے اپنے میگا سٹوروں سے فرنچ ساختہ اور فرانس سے درآمد شدہ اشیاء کو اپنے شیلفوں سے اٹھا دیا۔ پاکستانی میڈیا میں لیو (LU) بسکٹ بنانے والی فرم نے بھی یہ وضاحت پیش کی کہ یہ اگرچہ اول اول فرانسیسی فرم بھی تھی جس نے لیو بسکٹ بنائے اور دنیا بھر میں ان کو مارکیٹ کیا۔ مگر اب یہ فرم فرانسیسی نہیں، پاکستانی بن چکی ہے۔ اور اس کے حصص میں بہت کم سرمایہ فرانسیسی کمپنی کو جا رہا ہے۔ ساتھ ہی یہ ’وضاحت‘ بھی تھی کہ چونکہ اس پراڈکٹ کے ساتھ سینکڑوں خاندانوں کا روزگار وابستہ ہے، اس لئے اس کا بائیکاٹ نہ کیا جائے۔میں نے اپنے میڈیا پر یہ خبر دیکھی تو حیران ہوا کہ ہمارے ’میڈیا مغل‘ کتنے نادان ہیں۔ ان کو یہ خبر ہی نہیں کہ فرانس کی برآمدات کی دکھتی رگ لیو بسکٹ یا اس طرح کی معمولی معمولی اشیاء نہیں۔ یہ تو پرچون کے معاملات ہیں، تھوک کا معاملہ وہ فرانسیسی دفاعی ہتھیار اور ساز و سامان ہے جو مسلم ممالک میں فروخت کیا جاتا ہے اور اس کی قیمت اربوں کھربوں ڈالر ہے۔ مغربی میڈیا کا کمال یہ ہے کہ وہ گلہری کو دکھا کر پہاڑ کر چھپا دیتا ہے اور ہم اشرفیاں لٹا کر کوئلوں پر مہر لگا دیتے ہیں!یادش بخیر والد مرحوم فرمایا کرتے تھے کہ فرانس کی چار چیزیں دنیا بھر میں مشہور ہیں

اور ہاتھوں ہاتھ بکتی ہیں …… ان کے نام ہیں (1) عورت (2)خوشبو (3) شراب اور (4) ہتھیار !…… اور جب وہ یہ فرمایاکرتے تھے کہ ان عناصرِ اربعہ کے اصل خریدار تیل اور گیس کی دولت سے مالا مال عرب ممالک ہیں تو ہم حیران ہوا کرتے تھے کہ عربوں کی زبان تو قرآن کی زبان ہے۔ ان کو عورت، شراب اور خوشبو سے کیا کام؟…… اور جہاں تک ہتھیاروں کا تعلق ہے تو عربوں میں کون سا ایسا ملک ہے جس نے ماضی ء قریب میں کسی جدید لڑائی میں حصہ لیا ہے۔ وہ زمانہ جس میں عربوں اور مسلمانوں کو سلاحِ لڑائی عزیز تھے وہ تو صدیاں گزریں، ختم ہو چکا۔ہمارے سکول کے زمانے میں ہسٹری آف انگلینڈ لازمی مضمون کے طور پر پڑھائی جاتی تھی۔ ہمیں یاد ہے فرانسیسی بحری بیڑے اور برطانوی بحری بیڑے بحراوقیانوس میں ایک دوسرے سے صدیوں تلک دست و گریبان رہے۔ نپولین بونا پارٹ دنیا کے عظیم سپہ سالاروں میں شمار ہوتا تھا اور ہندوستان کی طرف بھی جب ان یورپی سفید فام اقوام نے رخ کیا تو اول اول واسکوڈے گاما آیا تھا جس کا تعلق پرتگال سے تھا اور اس کے بعد فرانس کا ڈوپلے آیا تھا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کا کلائیو تو سب سے بعد میں آیا لیکن اس نے آکر اپنے پیشرو ولندیزیوں، پرتگیزیوں اور فرانسیسیوں کو کان سے پکڑ کر ہندوستان جنت نشان کے دونوں ساحلوں (گوا، دمن، دیو اور مدراس، کلکتہ وغیرہ) سے بے دخل کر دیا…… اس سے پہلے بحراوقیانوس میں برطانوی بحری بیڑوں (Fleets) نے فرانسیسی بحری بیڑوں کو شکست دے دی تھی۔

سلطان ٹیپو شہید 1799ء میں جن انگریزوں کے ہاتھوں اللہ کو پیارے ہوئے انہوں نے فرانسیسی حکومت سے خط کتابت کے ذریعے مدد کی درخواست کی تھی لیکن ان کو (شاید) معلوم نہ تھا کہ انڈیا میں فرانس کے گورنر ڈوپلے کو انگریز نے ہندوستانی ساحلوں کی بحری لڑائیوں میں شکست فاش دے کر ان کو انڈونیشیا کی طرف دھکیل دیا تھا۔…… اور انڈونیشیا اور مشرق بعید (Far East) میں فرانسیسی کالونیوں کی داستان ایک الگ ملٹری باب ہے جس کا خاتمہ جنرل گیاپ (Giap) نے ویت نام میں ”ڈین بین پھو“ کی لڑائی میں کیا تھا۔ اور یہ کوئی ماضی ء بعید کی بات نہیں 1954ء کی بات ہے…… ذرا تاریخ اٹھا کر دیکھیں!……پھر ایران اور مشرقِ وسطیٰ کی خلیجی ریاستوں میں تیل نکل آیا تو گویا بلی کے بھاگوں چھیکا ٹوٹا…… سارا مغرب مسلمانوں کے تیل پر پل پڑا۔ اور آج بھی کم و بیش وہی عالم ہے (اس میں چین اور انڈیا کو بھی شامل کر لیں) عربوں کا غربت سے امارت تک کا سفر حیرت انگیز ہے۔ کیمل سے کیڈلک تک دیکھتے ہی دیکھتے عرب، نئے قسم کے مغربی استعمار کا شکار ہو گئے۔ فرانس کی خوشبویات اور فرانسیسی دوشیزاؤں کی بڑی مارکیٹ یہی عرب ریاستیں ہیں۔ خدا نے پورے یورپ کو ایک وسیع و عریض میدانی اور سرسبز و شاداب علاقہ بنا دیا ہے جس میں پہاڑ شاذ و نادر ہیں لیکن برف باری عام ہے۔ یہ آب و ہوا سفید فام اقوام کو بہت سی نعمتوں سے مالامال کرتی ہے جس میں نسوانی حسن اور بنتِ انگور پیش پیش ہیں۔

فرانس میں درجنوں ایکڑوں پر پھیلے انگور کے باغات ہیں جن میں مے کشید کرنے کے بے شمار کارخانے ہیں۔ علاوہ ازیں آپ فرانس کے کسی شہر میں چلے جائیں آپ کو خوشبو اور مے کی خالص ترین ورائٹی ملے گی۔ میرے ایک بزرگ اپنے دوستوں میں مل کر جب گپ شپ لگاتے تھے تو کہا کرتے تھے کہ فرانسیسی عورتوں کی رنگت اس قدر ’گوری‘ ہوتی ہے کہ مے پیتے ہوئے ان کے گلے کی رگیں بھی گلابی نظر آتی ہیں۔ ہمیں اپنی فوجی سروس کے دوران فرانس کے شہروں میں جانے کا اتفاق ہوا لیکن کسی ”گلابی گلو‘ حسینہ کو تماشا کرنے کا موقعہ نہ ملا (شاید اپنے اپنے نصیب کی بات ہے!)لیکن ایک بات جو اکثر قارئین کو معلوم نہیں وہ یہ ہے کہ فرانس کی ڈیفنس انڈسٹری اتنی متنوع اور جدید ہے کہ اس کو دیکھ کر ’تضادات‘ کے فلسفے پر یقین کرنا پڑتا ہے…… فلسفہ یہ ہے کہ جہاں خیر کی قوتیں زیادہ ہوں گی وہاں شر کی قوتیں بھی بے حد و حساب ہوں گی…… فرانس کے مضافات کو دیکھنے کا اگر آپ کو اتفاق ہو تو آپ حیران ہوں گے کہ مے و شباب میں ڈوبی یہ قوم اور نسوانی بے حجابی اور بے راہ روی میں لتھڑا یہ معاشرہ دفاعی پیداوار کے ضمن میں کتنا خشک طبع اور سنجیدہ مزاج ہے۔ دنیا کا کون سا ایسا ہتھیار ہے جس کا سٹیٹ آف دی آرٹ ورشن فرانس میں موجود نہیں۔ فرانس کی نیول (Naval) اور ائر انڈسٹری کا کوئی جواب اگر کہیں ہے تو وہ امریکہ میں ہے۔ اس کی گراؤنڈ فورسز میں انفنٹری اور آرمر کے سلاحِ لڑائی وہی ہیں جو برطانیہ، جرمنی اور امریکہ کے ہیں۔ اگر توپخانے کا ذکر کرنا ہو تو اس تکون (برطانیہ، جرمنی اور امریکہ) میں سویڈن کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ دنیا کا سب سے بڑا ائرشو فرانس میں ہوتا ہے، جس میں دنیا بھر کے لڑاکا طیارے حصہ لیتے ہیں اور دنیا بھر میں آبدوزوں کی تولید (Production) کا مینا بازار بھی اگر دیکھنا ہو تو وہ بھی آپ کو فرانس کی بندرگاہوں (طولون، شوربرگ، بریسٹ وغیرہ) میں مل جائے گا!…… انڈیا اگر رافیل طیاروں کی انڈکشن پر اتنا نازاں ہے تو اس کی بڑھکیں بلاوجہ نہیں۔ طیارہ سازی کے کارخانوں کی تعداد، ان کی وسعتیں اور ان میں کام کرنے والا افرادی عملہ اتنا کثیر التعداد ہے کہ ان کارخانوں کو فارن آرڈرز پورا کرنے کے لئے برسوں کی تاریخ دینی پڑتی ہے…… اور یہ ہتھیار (گراؤنڈ، ائر اور نیول) زیادہ تر مسلمان ملکوں کو فروخت کئے جاتے ہیں (ان میں خود ہمارا پاکستان بھی شامل ہے)۔ سوال یہ ہے کہ کیا مسلم / عرب ممالک فرانسیسی ساختہ سلاحِ لڑائی کا بھی بائیکاٹ کریں گے یاصرف بسکٹوں، مے اور عطریات وغیرہ کی بندش تک محدود رہیں گے؟…

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.