دنیا مکافات عمل۔۔!! ایک بار جب محترمہ بینظیربھٹو پیلا لباس پہن کر قومی اسمبلی میں آئیں تو نواز شریف نے ان پر کیا شرمناک جملہ کسا؟ جواب میں بے نظیر نے کیا بد دعا دی جو 23سال بعد پوری ہوئی؟ چشم کشا انکشافات

اسلام آباد (ویب ڈیسک) دنیا مضافات عمل کا ایک ایسا کھیت ہے کہ اس میں جب کوئی انسان کچھ بوتا ہے تو اسے وہی کچھ کاٹنا بھی پڑتا ہے، لیکن عقل و بصیرت سے عاری لوگ یہ بات جانتے بوجھتے ہوئے کانٹے بوتے ہیں لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ جب یہ بیج پودے اور درخت بنے گے

تو ہم ان پر سے انگور حاصل کریں گے۔ نوے کی دہائی میں پاکستان کے سب سے بڑے مافیا نواز گروپ نے بے نظیر بھٹو کو ایسا ذلیل کیا تھا کہ دنیا کی کسی حکومت میں اس کی مثال نہیں ملتی، بے نظیر کی برہنہ تصویریں ہیلی کاپٹر سے گرائی گئیں، ایک عورت کے لیئے اس سے بڑی ذلت اور کچھ نہیں ہوتی کہ اس پر فاحشہ کا الزام لگا کر بدنام کردیا جائے۔ نواز گروپ مافیا کے سربراہ نواز شریف تک نے پارلیمنٹ میں پیلے رنگ کے لباس میں آئی ہوئی بے نظیر بھٹو کو ،، پیلی ٹیکسی ،، تک کہا اور سنا ہے بے نظیر نے بعد ازاں روتے ہوئے کہا تھا کہ نواز شریف ایک دن ایساآئے گا کہ لوگ تم کو اور تمہارے خاندان کی عورتوں کو ایسے ہی ذلیل کرینگے۔ شائد وہ وقت بے نظیر بھٹو کی بد دعا کی قبولیت کا وقت تھا، اس کے دل سے نکلی ہوئی آہ نے بلآخر نواز مافیا گروپ کو آ پکڑا اور آج حالت یہ ہے کہ نواز شریف اپنی جوان بیٹی جو اس وقت کی بے نظیر بھٹو کی طرح پورے ملک میں جانی اور پہچانی جاتی ہے کو لیئے لیئے گلی گلی اور محلے محلے پھر رہا ہے اور ایک جم غفیر ہے جو اس مافیا سربراہ اور اس کی بیٹی کے پیچھے لگا ہوا ہے اوراس پر ایسے ایسے الزامات لگا رہا ہے ،ایسا ایسا کیچڑ اچھال رہا ہے اور ایسے بدنام کر رہا ہے جیسے یہ عورت اس ملک کی سب سے بری اور سب سے زیادہ گندے کریکٹر کی مالک ہے. اللہ نے عمران خان کی صورت میں ایک ایسا عذاب اس خاندان پر مسلط کر دیا جس نے ان کے محلوں اور ان کی شان و شوکت کو زمین بوس کردیا، اس مافیا گروپ کے خاندان کی تباہی و بربادی اور اس کا بکھرنا کہیں تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا. اللہ جبار و قہار ہے اس نے ملک کے سب سے بڑے دولت مند اور سب سے بڑے صاحب اقتدار مافیا گروپ کے سربراہ کی حالت ایسی کردی ہے جیسے لاری اڈوں پر کچھ لوگ اپنی بہن بیٹیوں کو ساتھ لے کر بندے بندے کے سامنے جاتے ہیں اور مدد کا سوال کرتے ہیں۔ فرعون اگر اپنے مرنے سے قبل اپنی فرعونیت سے تائب ہوجاتا، اپنے خدائی کے دعوے سے دستبردار ہوجاتا،اللہ سے معافی مانگ لیتا تو ممکن تھا اللہ تعالی اسے معاف کردیتا لیکن ایسے بد بخت انسان زندگی کی آخری سانس تک اللہ کی قدرت سے اپنی جنگ جاری رکھتے ہیں اور اللہ انہیں ذلالت اور رسوائی کا عبرت ناک نمونہ بنا دیتا ہے کہ دیکھنے والے عبرت حاصل کریں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.