حیران کن اقتباس

لاہور (ویب ڈیسک) امام خمینی جب 1 فروری 1979 کو سولہ سالہ جلا وطنی کے بعد وطن واپس لوٹے تو تہران کے مہر آباد ہوائی اڈے سے بہشت زہرا کے قبرستان تک لاکھوں ایرانیوں نے ان کا استقبال کیا۔ آیت اللہ خمینی کے استقبال کے لیے جو ہجوم اکٹھا ہوا تھا اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ

نامور مضمون نگار رضا مغل اپنے اسپیشل آرٹیکل میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا انسانی اجتماع تھا،بعض لوگوں نے یہ تعداد 1 کروڑ سے بھی زیادہ لکھی ہے یہ بھی عجیب دن تھا ،شاہانہ جاہ و جلال رکھنے والا حکمران اتنی بڑی تعداد دیکھ کر ملک سے فرار ہو گیا۔ امام خمینی کچھ وقت قم میں گزارنے کے بعد تہران آئے تو کہا میں عوام کے درمیان کسی سادہ سے گھر میں رہوں گا، حجت الاسلام سید مہدی نے بارگاہ حسینیہ جماران سے متصل اپنا گھر پیش کیا، امام خمینی نے کہا میں کرائے کے بغیر نہیں رہوں گا، تقریباً 650 روپے ماہانہ کرایہ مقرر ہوا ،جنوری 1980 سے 3 جون 1989تک امام اس کواٹر نما گھر میں مقیم رہے یہ وہ دور تھا جب ایران میں ان کی فرمانروائی تھی، ان کے اشارہ ابرو کے بغیر ایک پتا بھی حرکت نہ کرتا تھا، ایران کے انقلاب کی ساری صورت گری اسی حجرے میں ہوئی۔ آپ کا انقلاب اسلامی اس بات کی واضح دلیل تھی کہ آپ کچھ کر گزرنے والے انسان تھے۔ جس چیز کا عزم فرماتے اسے پورا کرنے کے لیے رکاوٹوں کے ہونے باوجود بلا جھجھک اس میں کود پڑتے اور جان کی بازی لگانے سے کبھی نہ ڈرتے تھے ان کے قول اور فعل میں تضاد بالکل نہ تھا یہاں تک فرانس والے وعدے کو عالم اسلام کے ہر فرد نے دیکھا۔امام خمینی نے ایرانی شاہی نظام کو ختم کر کے اسلامی نظام کی بنیاد رکھی۔آپ کاکینسرکی وجہ سے 3 جون 1989انتقال ہو گیا۔ تہران کے قریب دفن ہوئے۔ آپ کے جنازے میں تقریبا ایک کروڑ لوگوں نے متواتر تین روز تک شرکت کی۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.

site-verification: a5f3ae327aefe7db9b1fdb6f7c6a8b26