جہانگیر ترین کے بعد ندیم افضل چن بھی کپتان سے دور ۔۔۔۔ آخر اقتدار کے ایوانوں میں یہ تباہ کن چالیں کون چل رہا ہے ؟ تجربہ کار ساتھیوں کو عمران خان سے دور کرنے کا مقصد کیا ہے ؟ بڑی سازش سے پردہ ہٹا دیا گیا

لاہور (ویب ڈیسک) واقفان حال بتاتے ہیں کہ گذشتہ روز وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی امور برائے پارلیمانی تعاون ندیم افضل چن نے سیاسی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کابینہ کے اجلاس میں چینی مہنگی ہونے پر آواز بلند کی انہوں نے انکوائری کمیشن کو چینی مہنگی ہونے کا ذمہ دار ٹھہرایا

نامور کالم نگار محمد اکرم چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور کہا کہ شہزاد اکبر چینی مل مالکان کے گروپ کے خلاف انکوائری کے نام پردھوکہ دیتے رہے۔ ندیم افضل چن کے اس بیان کو نہایت سنجیدگی سے لینا چاہیے اور ان کے اس بیان پر ایک الگ انکوائری ہونی چاہیے کیونکہ گذشتہ ایک برس میں اشیاء خوردونوش کی قیمتوں کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے وہ کسی گہری سازش سے کم نہیں ہے۔ وزیراعظم عمران خان خود بھی مصنوعی مہنگائی کا ذکر فرماتے رہتے ہیں ان کے وزراء بھی مہنگائی کو خود ساختہ قرار دیتے ہیں ندیم افضل چن کے اس بیان کے بعد یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اگر یہ مہنگائی مصنوعی اور خود ساختہ ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہے۔ چینی کی قیمتوں کے حوالے سے ہونے والے تمام اقدامات اس بیان کے بعد مشکوک ہوئے ہیں یہ حقیقت ہے کہ جن لوگوں نے یہ انکوائری کی ہے وہ اس کاروبار، اس کی باریکیوں اور تکنیکی چیزوں سے ناواقف ہیں نہ انہیں کوئی کاروباری تجربہ ہے۔ ان کی موجودگی میں ایسی کسی بھی انکوائری کا یہ حال ہونا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ اسی کمیشن کی وجہ سے جہانگیر خان ترین کی پاکستان تحریکِ انصاف میں پوزیشن خراب ہوئی بلکہ یہ کہا جائے کہ انہیں جماعت سے نکالنے کی کوشش کی گئی تو بھی غلط نہ ہو گا۔ جہانگیر خان ترین زراعت کے حوالے سے تمام معاملات ہر گہری نگاہ رکھتے ہیں وہ اس کی باریکیوں سے بھی واقف ہیں اور اس میں نئے رجحانات کو بھی فروغ دے سکتے ہیں

وہ اس شعبے کے مسائل کو حل کرنے کی بھی اہلیت رکھتے ہیں لیکن اس کے باوجود جہانگیر ترین کو اس انداز سے الجھایا گیا کہ وہ آج باہر بیٹھے ہیں اور عمران خان سے خاصے دور ہو چکے ہیں۔ ان کی دوری صرف ایک سیاست دان کی اپنی جماعت سے علیحدگی نہیں ہے بلکہ عمران خان ایک مخلص دوست سے بھی محروم ہوئے ہیں۔ یہ ساری کارروائی باقاعدہ سازش معلوم ہوتی ہے۔ اگر جہانگیر ترین کے کاروبار میں بے ضابطگیاں پائی جاتی ہیں تو ا نہیں قانون کے مطابق دیکھا جانا چاہیے لیکن ان کے کاروبار کو سیاسی ہدف یا ان کی سیاست کو ہدف بنانا مناسب نہیں تھا۔ وہ ان معاملات کو آزادانہ دیکھ رہے ہوتے تو کسی حد تک بہتر اور مثبت کردار ادا کر سکتے تھے۔ ندیم افضل چن کے اس بیان کے بعد وزیراعظم عمران خان کو یہ ضرور دیکھنا چاہیے کہ ان کے اردگرد کون ہے جو ایسے مشورے دیتا ہے یا ایسی سرگرمیوں میں ملوث رہتا ہے کہ پارٹی کے مخلص افراد کے لیے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ ندیم افضل چن نے احتساب و داخلہ کے مشیر شہزاد اکبر سے کہا کہ آپ نے اچھی انکوائری کی ہے چینی سستی ہونے کی بجائے مہنگی ہوگئی، اگر انکوائری کے بعد چینی سستی نہیں ہونی تھی تو پھر لوگوں کو نشانہ بنانے کی کیا ضرورت تھی۔ دلیر اور بہادر سیاسی کارکن ندیم افضل چن نے کہا کہ چینی اور گندم سستی ہو سکتی ہے۔ متعلقہ حکام میرے ساتھ بیٹھ جائیں۔ دیکھتا ہوں کہ گندم اور چینی کیسے سستی نہیں ہوتی۔

ان بیانات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ مصنوعی ہے یا خود ساختہ یا پھر یہ حقیقی ہے۔ ہر صورت اس کی ذمہ داری متعلقہ وزراء اور وزیراعظم عمران خان کی ٹیم پر عائد ہوتی ہے۔ ندیم افضل چن نے ہمارے لکھے گئے درجنوں کالموں کی تائید کی ہے ہم ملک و قوم کے وسیع مفاد اور عام آدمی کی مشکلات کے پیش نظر مہینوں سے کہہ رہے کہ اگر کسی کو سمجھ نہیں آ رہی کہ مارکیٹ کا رجحان کیا ہے، مارکیٹ کو قابو کیسے کرنا ہے مارکیٹ کے مسائل کیا ہیں تو تشریف لائیں سمجھائے دیتے ہیں کوئی قدم تو اٹھائے، عوام کی مشکلات کا ارادہ تو کرے لیکن کسی کو اثر نہیں ہوا نتیجہ یہ ہے سبزیوں نے سینچریوں سے کم پر ملنا بند کر دیا ہے۔ بدقسمتی سے ان دنوں وزیراعظم عمران خان کے انتہائی قریب دو ایسے غیر سیاسی و غیر عوامی افراد موجود ہیں جن کا نہ عوام سے کوئی تعلق ہے، نہ ان کا عام آدمی کے مسائل سے کوئی تعلق ہے، نہ ان کا کوئی بڑا کاروبار ہے لیکن ان کے مشوروں سے لگتا ہے کہ نہ انہوں نے کسی کا کاروبار رہنے دینا ہے نہ انہوں نے کوئی عام آدمی کو سکون سے رہنے دینا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے تمام تر خامیوں اور غلط مشوروں کے باوجود وزیراعظم ان پر بہت اعتماد کرتے ہیں۔ جہانگیر ترین کے کیس اور ندیم افضل چن کے ان بیانات کے بعد بھی اگر حقائق سامنے نہیں آتے تو مہنگائی پر قابو پانا ممکن نہیں ہو گا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.