جن والدین کی جوان بیٹی گھر سے بھاگ جائے ان پر کیا گزرتی ہے ؟ اوریا مقبول جان چپکے سے اور چھپ چھپ کر رونے والوں کی آواز بن گئے

لاہور (ویب ڈیسک) جو پودا آپ نے اپنے ہاتھ سے خود لگایا ہو، اس پر اُگنے والے کانٹے اگر آپ کا ہی دامن تار تار کردیں تو بہت دکھ ہوتا ہے۔ایسا ہی دکھ کسی صاحبِ اولاد باپ یا ماںکو ہوتا ہے، جب محبتوں سے پالی ہوئی ان کی اولادیں ان کے سامنے فیس بک، ٹک ٹاک اور

گھٹیا ڈراموں کے ڈائیلاگ اور کہانیاں دہرا کر بغاوت کا اعلان کرتی ہیں۔ نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے اس دُکھ کا اس لئے بھی اندازہ ہے کہ میں نے کشور ناہید کو ’’تحریک نسواں‘‘ کے پودے کو اپنا خون دیتے، مدتوں نگر نگر دربدرہوتے ہوئے دیکھا ہے۔ ایسی خاتون کے سامنے جب ہاورڈ ، کیمبرج یا آکسفورڈ میں امیر باپ کے پیسوں سے تعلیم حاصل کرنے والی اور ناونعم میں پلی انگلش میڈیم سکولوں کی راہداریوں میں جدید دنیا کی چربہ اخلاقیات استعمال کرنے والی بچیاں، تکلیف دہ حد تک فضول اور بے بنیاد الزامات لگائیں تو دکھ تو ہوتا ہے۔ کشور کا المیہ صرف یہ بگڑی ہوئی نسل اور بے منزل، گم کردہ راہ بچیاں نہیں بلکہ بڑے بڑے ناموں کی اولادیں بھی ہیں جو اپنے باپوں، دادوں اور نانوں کے نام کو چند سکے کمانے، کچھ دیر مشہور ہونے اور کارپوریٹ دنیا کی بکاؤ اخلاقیات کو تحفظ دینے کے لئے استعمال کرتی ہیں۔ اقبال کا نواسہ اسے کسی حویلی کی رنگارنگی میں لے گیا ہے اور فیض کے وارثوں نے اسے کارپوریٹ سرمائے کی دکان پر بیچ دیاہے،وہ سرمایہ دارانہ نظام جس کے خلاف وہ ساری عمر لکھتا رہا ۔ فراز کو انقلابی تو یار لوگوں نے اب بنا دیا ہے ورنہ شبلی اور غزالی سے بہتر کون جانتا ہے۔ کشور ناہید سے میں اتنا ہی اختلاف کرتا ہوں جتنا اختلاف کرنے کا حق ہے۔ مجھے اس کے نظریے، تصورِ حیات اور انقلاب سے کبھی اتفاق نہیں رہا، لیکن میں اس کی قوتِ کردار کا مداح رہا ہوں۔ یہ قوتِ کردار ہی ہے جو لاتعداد جبران ناصروں اور ضرار کھوڑوں سے اسے بلند کردیتی ہے۔ جو پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ بیٹیوں کے معاملے میں لڑائیاں نہیں جیتی جاتیں۔ بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں۔ انہیں کسی کی قید سے آزادی کی بجائے اس بے ہنگم، غلیظ اور خطرناک میڈیا سے آزاد کروانے کی ضرورت ہے۔ جو ’’آرزو‘‘ آج دارلامان پہنچی ہے، وہ تین سال انتظار کرلے گی، لیکن اس کی نفرت کے سزاوار وہی لوگ ہوں گے جنہوں نے اس کی جذباتی کیفیت کا ادراک کیا اور نہ ہی میڈیا سے متاثررومانی تصورات کا پاس کیا۔ ان کے نزدیک’’ آرزو‘‘ صرف اور صرف ایک لاپتہ لڑکی تھی۔۔ ایک ہائی کورٹ کے وکیل کے لئے جیتنے والا جذباتی کیس، ایک ٹی وی اینکر کے لئے یک کامیاب شو کا مواد اور ایک سیاست دان کے لئے عوام کو بے وقوف بنانے کیلئے ایک نعرہ مستانہ۔ کوئی اس آرزو کے اس کربناک ماحول میں نہیں جھانکتا جسے میڈیا کی لذت بھری غلیظ چکاچوند دنیا نے قبضے میں کررکھا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *