جناب والا : عقل کے ناخن لو ،آپ سے اچھے تو پچھلے حکمران تھے ۔۔۔۔۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے الٹی سمت میں جاتی تبدیلی ایکسپریس کو ریڈ سگنل دکھا دیا

لاہور (ویب ڈیسک) اِس وقت ملک نہایت گندی سیاست کا شکار ہے۔ حکمران پارٹی اور حزبِ اختلاف دونوں ہی ایک دوسرے کے خلاف غیرمہذب زبان استعمال کررہے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اِس کے باوجود ریاستِ مدینہ کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ اگر ریاستِ مدینہ کی بات کرتے ہو تو

نامور سائنسدان اور مضمون نگار ڈاکٹر عبدالقدیر خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلے حضرت عمرؓ کے دورِ حکومت کا مطالعہ کرو اور کم از کم حضرت شبلی نعمانی کی کتاب عمرؓ فاروق کا ٹھیک سے مطالعہ کرو اور محمد حسین ہیکل کی انگریزی میں کتاب عمرؓ بن خطاب کا مطالعہ کرو، اگر اُردو سے نابلد ہو تو! اُس کے علاوہ عمر بن عبدالعزیزؒ کی سوانح حیات پڑھ لو اور جب تک اُن کے اخلاق کی پیروی نہ کرو، بات نہ کرو۔ صبح سے شام تک ٹی وی پر بدزبانی، لغویات کی بوچھاڑاور الزام تراشی ہوتی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ماضی میں حالات اب سے ہزار درجہ بہتر تھے۔ اتنی بیروزگاری، اتنی مہنگائی نہ تھی اور نہ ہی اتنا غیرملکی قرض تھا۔ اِنہوں نے تو غیرملکی قرض کی سنچری کراس کر لی ہے۔ آٹا اور چینی چوروں کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔ دعوے روز ہوتے ہیں لیکن کوئی عمل نظر نہیں آتا۔ بعض اوقات ڈر یہ لگتا ہے کہ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز نہ ہو جائے اگر ایسا ہوا تو بہت بُرا ہوگا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.