جب گھڑیاں نہیں ہوتی تھیں تب وقت کا پتہ کیسے لگایا جاتا تھا؟جانیے تفصیل

وقت ایک اہم چیز ہے جس کی قدر و قیمت کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب یہ ہاتھ سے نکال جاتا ہے۔ وقت کسی کے لئے نہیں رُکتا یہ بات سب ہی جانتے ہیں۔پرانے وقتوں میں لوگ سورج اور سائے کی مدد سے وقت کا تعین کیا کرتے تھے۔ ایک لکڑی کھلی جگہ پر گاڑ دی جاتی تھی اور اس کے بڑھتے گھٹتے سائے سے وقت کا حساب رکھا جاتا تھا۔ بعد ازاں سینڈ گلاس کی مدد سے وقت کا حساب کتاب رکھا جانے لگا۔ سینڈ گلاس کا استعمال آج بھی ہوتا ہے لیکن وقت معلوم کرنے کے لئے نہیں

بلکہ میز کی خوبصورتی بڑھانے کے لئے۔اس پر موسم کے اثرات بہت زیادہ نہیں ہوتے تھے لیکن اس کا نقصان یہ تھا کہ یہ صرف ایک محدود مدت کے لئے وقت کا حساب رکھنے میں مدد کرتا تھا اور اس پر مسلسل نظر رکھنا پڑتی تھی کہ کب اس کی پوری ریت نیچے آئے اور ہم اسے پلٹ کر رکھیں، یا اکثر ایسا بھی ہوتا تھا کہ ریت میں موجود کوئی ذرہ راستے میں پھنس جاتا تو وقت کی گردش رک جاتی تھی۔شدید گرمی کی صورت میں سینڈ گلاس کی رفتار بڑھ جاتی اور شدید ٹھنڈ میں یہ آہستہ ہو جاتا تھا، یعنی وقت کو جانچنے کا یہ طریقہ بھی غلطی سے مبرا نہیں تھا۔ لہٰذا انسان کی وقت اپنے ہاتھ میں رکھنے کی کوششیں مسلسل کی جاتی رہی ہیں۔آخر کار انسانی تاریخ میں انقلابی اقدام کا آغاز ہوا اور واچ انڈسٹری قائم ہونے لگیں۔ آج کل تو لوگ ٹائم دیکھنے لے لئے گھڑیوں کی جگہ موبائل فون کا استعمال کرتے ہیں۔ گھڑیوں کی فروخت میں نمایاں کمی آئی ہے اور پھر چائنہ نے جہاں ہر چیز کو متاثر کیا ہے وہیں واچ انڈسٹری پر بھی مضر اثرات ڈالے ہیں۔ مہنگی ترین برانڈڈ گھڑیوں کی نقل صرف چند سو روپے میں مل جاتی ہے اور وہ بھی حقیقی سے اس قدر قریب ہوتی ہے کہ دونوں گھڑیاں ساتھ رکھ دی جائیں تو شناخت کرنا مشکل ہو جائے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.