’’جا ئو پہلے اپنے ماں باپ کے ہاتھ دھو کر آؤ‘‘

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) شاہد ایک ذہین طالبعلم تھا، کمپیوٹر سائنس میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد اُس نے ایک بڑی ملٹی نیشنل کمپنی میں آئی ٹی مینجرکی جاب کے لیے درخواست دی جس پر اُسے کمپنی میں Written Exam کے لیے بُلایا گیا جو اُس نے اچھے نمبروں سے پاس کر لیا۔ کمپنی کا امتحان پاس کرنے

کے بعد اُس کا ابتدائی انٹرویو بھی بہت اچھا ہُوا اور اُسے فائنل انٹرویو کے لیے کال کر لی گئی، شاہد فائنل انٹرویو دینے پہنچا تو کمپنی کے ڈائریکٹر نے اُس کی سی وی دیکھ کر کہا تُم نے ماسٹرز کی ڈگری اے پلس مارکس کے ساتھ پاس کی ہے یہ بتاؤ تمہیں کبھی کالج یا یونیورسٹی کی طرف سے سکالر شپ ملی ہے؟۔ شاہد نے پریشان ہو کرجواب دیا ” نہیں سر مُجھے کبھی سکالر شپ نہیں ملی”، ڈائریکٹر نے شاہد سے پُوچھا ” تمہاری پڑھائی کی فیس کون ادا کرتا تھا؟”، شاہد ” سر میرے والدین میری فیس ادا کرتے تھے”، ڈائریکٹر ” تمہارے والدین کیا کام کرتے ہیں؟”۔ شاہد نے بتایا ” سر ہم دھوبی ہیں میرے والد لوگوں کے گھروں سے گندے کپڑے اکھٹے کرتے ہیں اور پھر گھر لاکر میری ماں کیساتھ اُن کو دھوتے ہیں”۔ ڈائریکٹر نے شاہد سے کہا “اپنے ہاتھ دیکھاؤ”، شاہد نے ہاتھ دیکھائے تو ڈائریکٹر بولا تمہارے ہاتھ تو بلکل صاف سُتھرے اور نرم و ملائم ہیں تُم نے کبھی کپڑے نہیں دھوئے؟”، شاہد بولا ” سر میرے والدین نے مُجھے کبھی کپڑے دھونے نہیں دئیے اور وہ ہمیشہ چاہتے تھے کہ میں پڑھ لکھ کر بڑا آدمی بنوں”۔ ڈائریکٹر نے شاہد سے کہا ” تُمہارا آج کا انٹرویو یہیں ختم ہوتا ہے تُم آج گھر جاؤ اور اپنے والدین کے ہاتھ اچھی طرح دھو کر کل

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *