بریکنگ نیوز: سرکاری اسکولوں میں ڈبل شفٹ شروع کرنے کی منظوری۔۔۔ طالبعلموں کے لیے نئے احکامات جاری کردیے گئے

پشاور(ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے اجلاس میں سرکاری اسکولوں میں ڈبل شفٹیں شروع کرنے کی اصولی منظوری دے دی گئی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ سرکاری اسکولوں میں ڈبل شفٹیں شروع کرنے کیلئے پالیسی تیار کر لی گئی ہے۔ پالیسی پر عملدرآمد کیلئے وزیر تعلیم

کی سربراہی میں متعلقہ حکام کی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔ اسکولوں میں ڈبل شفٹیں ضروت کی بنیاد پر شروع کی جائیں گی۔اجلاس کو بریفنگ دی گئی کہ کسی بھی ا سکول کیلئے ڈبل شفٹ کی ضرورت کا تعین کرنے کیلئے طریقہ کار واضح کیا گیا ہے۔ ڈبل شفٹیںوں پڑھانے کیلئے اسی اسکول کے اساتذہ کو پہلی ترجیح دی جائے گی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ اسکول میں سیکنڈ شفٹ کے اساتذہ نہ ملنے پر قریبی ا سکول سے اساتذہ لیے جائیں گے۔ ای ٹرانسفر پالیسی کے تحت اساتذہ کے سال میں ایک دفعہ تبادلے ہوں گے۔ ای ٹرانسفر پالیسی کے تحت گریڈ 12 تا 18 تک کے اساتذہ کے تبادلے ہوں گے۔ صوبے کے تمام تعلیمی بورڈز میں یکساں نظام رائج کرنے پر کام کیا جائے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ تمام تعلیمی بورڈز میں امتحانات کا سارا نظام یکساں ہونا چاہیے۔ تعلیمی بورڈز کی خالی آسامیوں کو جلد سے جلد پر کیا جائے۔ ۔ دوسری طرف ایک خبر کے مطابق لاہور کی احتساب عدالت نے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز کو بکتر بند گاڑی میں عدالت لانے کے خلاف درخواست پر سیکرٹری داخلہ پنجاب اور ایس پی سیکیورٹی کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت کے جج جواد الحسن نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی درخواست پر سماعت کی۔درخواست میں شہباز شریف کی جانب سے مو¿قف اختیار کیا گیا کہ کمر درد میں مبتلا ہوں لیکن سیاسی انتقام کا نشانہ بناتے ہوئے بکتر بند گاڑی میں لایا جا رہا ہے، گاڑی کی حالت بھی درست نہیں، اس وجہ سے کمر درد میں اضافہ ہو رہا ہے، استدعا ہے کہ عدالت بکتر بند گاڑی میں لانے سے روکنے کا حکم دے۔سیکریٹری داخلہ پنجاب نے بھی جواب جمع کرایا جسے عدالت نے مسترد کر دیا اور حکم دیا کہ سیکرٹری داخلہ اور ایس پی سیکیورٹی 19 نومبر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر وضاحت دیں۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ کوئی ذمہ داری لینے کو تیار ہی نہیں ہے، سب ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال رہے ہیں۔عدالت نے شہباز شریف کی جیل میں طبی سہولتیں نا ملنے کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست پر بھی وکلاءکو بحث کے لیے 23 نومبر کو طلب کر لیا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *