اپوزیشن کے بیانیئے پر عسکری قیادت خاموش کیوں ہے؟ آئی ایس آئی اور آرمی چیف کیا کرنے میں مصروف ہیں ؟ معروف صحافی کا تہلکہ خیز انکشاف

لاہور(ویب ڈیسک) سینئر صحافی صابر شاکر نے کہا ہے کہ اپوزیشن کے بیانیئے پر عسکری قیادت غافل نہیں، خاموش ضرور ہے، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی خاموشی سے معاملات کا جائزہ لے رہے ہیں، اور دیکھ رہے ہیں کہ ان کے ساتھ اور کون سے چہرے شامل ہوسکتے ہیں، ان کیلئے ایک متبادل کاؤنٹر اسٹریٹجی بنائی جارہی ہے۔انہوں نے اپنے تبصرے میں کہا کہ پی ڈی ایم جس کی بنیاد اپوزیشن جماعتوں نے رکھی ہے،

پی ڈی ایم کا ایجنڈا، دھمکیاں اور لب ولہجہ ایک تواتر سے جاری ہے، ہمارے نزدیک یہ تو بھارت کا ایجنڈا ہے، اب چیزیں کھل کر سامنے آگئی ہیں، انڈیا کی نیشنل سکیورٹی کے ایڈوائزر اجیت دوول نے بھی وہی باتیں کیں، جو نوازشریف، مریم نواز، محمود اچکزئی نے کی تھیں۔ہمارے انٹیلی جنس اداروں کے پاس معلومات ہیں کہ اسلام آباد کراچی اور لاہور میں غیرملکی سفارتکار جن سیاستدانوں سے ملاقاتیں کررہے ہیں، ان کا پتا ہے۔واشنگٹن اور لندن میں بھی اس طرح کی ملاقاتیں ہورہی ہیں۔ان ملاقاتوں میں لندن میں باقاعدہ پلاننگ ہورہی ہے ۔دوسری جانب اس حوالے سے ہماری حکومت اور عسکری قیادت کیا سوچ رہی ہے،اپوزیشن کی حکمت عملی یہ ہے کہ پاکستان کے اندر ہی تحریک کھڑی کی جائے اور عوام سڑکوں پر آجائیں۔تحریک میں ٹریڈ یونین، طلباء یونین اور تاجروں کو تحریک میں شامل کرنے کا پلان ہے۔ جب تحریک پوری گرم ہوگی تو پھر نوازشریف واپس آئیں گے۔ ہمارے ادارے ان کے پلان سے غافل نہیں ہیں۔آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کیوں خاموش ہیں؟ عسکری قیادت ان کو دیکھ رہی ہے کہ ان کے ساتھ اور کون سے چہرے شامل ہیں۔ان کیلئے ایک متبادل کاؤنٹر اسٹریٹجی بنائی جارہی ہے۔ گوجرانوالہ میں صرف نوازشریف تھے، کوئٹہ میں ساری چیزیں کھل کر سامنے آگئی ہیں۔پی ڈی ایم کے بعض رہنماؤں نے سی پیک، گوادر، فوج اور اچکزئی نے کہا کہ افغان بارڈر کو مسمار کرنے کی بات کی گئی۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.