اسلام اور شان رسالتؐ و حرمت رسول ؐ کے ہم اکیلے ٹھیکیدار نہیں ، نہ ہی ہم کچھ کرنے جوگے ہیں ۔۔۔۔کرنا ہے تو اسلامی دنیا یہ کام کرے ۔۔۔۔۔ جاوید چوہدری کا امت مسلمہ کو جاندار مشورہ

لاہور (ویب ڈیسک) ظہیرحسن ہو یا عبداللہ مسلمان اپنا سب کچھ قربان کر دیتے ہیں اور دنیا کو یہ بات سمجھنا ہو گی‘ہم میں سے برے سے برا مسلمان بھی رسول اللہ ﷺ کی ذات پر کمپرومائز نہیں کرتا چناں چہ یورپ کو اپنا معاشرہ بچانے‘ سوسائٹی میں توازن قائم کرنے کے لیے چارلی ہیبڈو اور پروفیسر سیموئیل جیسے لوگوں کو روکنا ہوگا‘نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں

۔۔۔۔ یورپ کو ان کے خلاف قانون سازی کرنی ہو گی‘ صدر میکرون کا راستہ غلط ہے اور اس راستے پر خون اور بارود کے سوا کچھ نہیں‘ میکرون کا ردعمل مسلمانوں کو روک یا دبا نہیں سکے گا‘ یہ دنیا میں لڑائیوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کر دے گا اور اس میں تباہی کے سوا کچھ نہیں۔ہم اب اسلامی دنیا کے نوجوانوں کی طرف بھی آتے ہیں‘ میں بار بار عرض کر رہا ہوں ہم اکیلے ٹھیکے دار نہیں ہیں‘ اسلام اور نبی رسالتؐ کا سب سے بڑا محافظ اللہ تعالیٰ ہے‘ اس نے نبی اکرمؐ کی حرمت کی قسم کھا رکھی ہے لہٰذا یہ کسی قیمت پر اپنے حبیبؐ کی بے حرمتی برداشت نہیں کرے گا‘ آپ یہ یقین رکھیں‘ دوسرا دنیا میں 57 اسلامی ملک اورایک ارب 90کروڑ مسلمان ہیں‘ ہم سب جب تک مل کر توہین رسالت کا مسئلہ نہیں اٹھائیں گے‘ یہ سلسلہ بند نہیں ہو گا چناں چہ آپ چھری‘ تلوار یا ہتھیار اٹھانے کی بجائے اپنی حکومت کو مجبور کریں۔آپ او آئی سی‘ اقوام متحدہ اور عالمی عدالت انصاف پر دباؤ ڈالیں‘ یہ سب ادارے ملیں گے تو ہی چارلی ہیبڈو جیسے میگزین اور گستاخانہ خاکے بنانے والے بدبخت ٹیگنوس‘ شارب‘ آکاکابو‘ جین کابٹ اور وولنسکی رکیں گے‘ ہم اگر اس طرح انفرادی سطح پر یہ مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرتے رہے تو دنیا میں تیسری ورلڈ وار چھڑ جائے گی اور اس میں چارلی ہیبڈو اور ظہیرحسن دونوں جان سے جائیں گے‘ دوسرا آپ یہ بھی دیکھ لیجیے ظہیر حسن کے اٹیک سے پہلے گستاخی کا سلسلہ صرف چارلی ہیبڈو تک محدود تھا۔اس میگزین کی سرکولیشن دو ہزار کاپیوں سے زیادہ نہیں تھی‘ ظہیر حسن نے چارلی ہیبڈو کی پرانی عمارت پر اٹیک کر کے گستاخی کو پورے فرانس تک پھیلا دیا اور چیچن نوجوان عبداللہ کی وجہ سے یہ گستاخی اب اسکرینوں تک پہنچ چکی ہے اور حکومت نے اسے ’’اون‘‘ کر لیا ہے چناں چہ آپ دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیں ان دونوں نوجوانوں کے اقدامات سے کس کو نقصان ہوا؟ ہم مسلمان دونوں نوجوانوں کے اقدامات کے سب سے بڑے وکٹم ثابت ہوئے۔فرنچ حکومت اب گستاخانہ خاکے اسکرینوں کے ذریعے پورے پورے شہر کو دکھارہی ہے چناں چہ ہمیں بھی یہ سمجھنا ہوگا ہم دباؤ ڈال کر یہ مسئلہ حل نہیں کر سکیں گے لہٰذا پلیز ڈائیلاگ شروع کریں اور اس ڈائیلاگ میں پوپ‘ امام کعبہ‘ آیت اللہ اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو بٹھائیں‘ یہ سب مل کر عیسائی دنیا میں نئی قانون سازی کرائیں ورنہ یہ چھوٹے چھوٹے واقعات بڑے بڑے حادثوں میں بدل جائیں گے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *