آنجہانی شہزادی لیڈی ڈیانا کے بیٹے شہزادہ ہیری کے حوالے سے چند دنگ کر ڈالنے والے حقائق

لاہور (خصوصی رپورٹ ) شہزادہ چارلس اور لیڈی ڈیانا کا چھوٹا بیٹا پرنس ہیری ہے جسے ابتدائی تعلیم کے بعد بورڈنگ سکول میں بھیجا گیا جہاں اس کے داخلے کیلئے ایڈمشن ٹیسٹ پاس کرنا ضروری تھی، چنانچہ اس نے ٹیسٹ کی تیاری کی اور بمشکل پاس کرکے ایٹن کالج میں داخلہ لے سکا۔

2003 میں اس نے دو اے لیولز مکمل کئے، آرٹ میں گریڈ بی حاصل کیا اور جغرافیہ میں گریڈ ڈی سے بمشکل پاس ہوا۔ اس کا رحجان آرٹ کے مضامین کی نسبت سپورٹس میں زیادہ تھا ۔ اس کی ٹیچر نے اس کی رپورٹ میں لکھا تھا کہ وہ ایک کمزور سٹوڈنٹ ہے اور ایسا لگتا ہے کہ ایٹن کالج نے اسے پاس ہونے میں مدد دی ہے۔پرنس ہیری کی ٹیچر کی جانب سے جب یہ کمنٹس رپورٹ پر لکھے گئے تو کالج انتظامیہ نے فوری طور پر ان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پرنس ہیری کو پاس ہونے میں کوئی مدد نہیں دی۔ تاہم کالج کے بورڈ آف گورنرز نے ایک کمیٹی بنا کر معاملے کی تحقیقات کا فیصلہ کیا۔اس کمیٹی نے تین ہفتے کام کرکے پتہ لگایا کہ پرنس ہری کو اگرچہ امتحانات میں کسی قسم کی مدد نہیں ملی، تاہم اسے اے لیول پاس کرنے کیلئے جو پراجیکٹ دیا گیا تھا، اس پر پراجیکٹ کی تکمیل میں چند ٹیچرز نے اسے مشورے یا ٹپس دی تھیں جو کہ روایات کے خلاف تھیں، چنانچہ ان ٹیچرز کو وارننگ جاری کی گئی اور انہوں نے اپنے اس فعل کی معافی بھی مانگی۔کالج سے فارغ ہونے کے بعد پرنس ہیری نے ایک سال آسٹریلیا میں مویشی فارم پر گزارا جہاں اس نے کیٹل فارمنگ کی بنیادی ٹریننگ حاصل کی اور اس کے ساتھ ساتھ گولف میں بھی حصہ لیا جس کیلئے وہ پہلے سے سیلیکٹ ہوچکا تھا۔آسٹریلیا سے واپسی پر 2005 میں پرنس ہیری نے رائل ملٹری اکیڈیمی میں داخلہ لیا۔دوسال کی ٹریننگ کے بعد لیفٹنٹ بن گیا۔

2006 میں اس کی رجمنٹ کو عراق بھیجنے کا اعلان ہوا تو عوامی سطح پر بحث شروع ہوگئی کہ کیا برطانیہ کے شہزادے کو عراق کی لڑائی کے محاذ پر بھیجنا درست ہوگا؟ برطانیہ کی وزارت دفاع نے بیان جاری کیا کہ پرنس ہیری اگر خود جانے سے انکار کردے تو اسے اپنا ملٹری کیرئیر ترک کرنا ہوگا۔ پرنس ہیری نے عوامی مطالبے کے برخلاف عراق جانے کو ترجیح دی اور اعلان کیا کہ اگر اسے اگلے مورچوں پر نہ بھیجا گیا تو وہ احتجاجاً ملٹری چھوڑ دے گا۔پرنس ہیری کا اگلا مشن افغانستان تھا جہاں وہ دو مرتبہ ڈپلائی کیا گیا۔ پہلی مرتبہ خفیہ طور پر 20 ہفتوں کیلئے، اور دوسری مرتبہ چھ ماہ کیلئے۔2015 میں پرنس ہیری نے ملٹری چھوڑ نے کا فیصلہ کرلیا۔2018 میں ہیری نے امریکی اداکارہ میگھن مرکل سے لو میرج کر لی۔ پرنس ہیری اور اس کی بیوی میگھن ایک سال تک شاہی خاندان کے ساتھ رہے لیکن انہیں لگا کہ وہ اپنے فیصلے کرنے میں آزاد نہیں ہیں، چنانچہ اس سال کے آغاز میں پرنس ہیری نے اعلان کیا کہ وہ برطانوی شاہی خاندان کو چھوڑ کر ایک عام انسان کی طرح زندگی گزارے گا۔ چنانچہ وہ اپنی تمام سہولیات چھوڑ کر اپنی بیوی کے ساتھ پہلے کینیڈا منتقل ہوا، پھر وہاں سے امریکہ چلے گئے۔آج کی خبر کے مطابق پرنس ہیری اور اس کی بیوی ابھی تک مالی طور پر مشکلات کا شکار ہیں اور وہ اپنے پلان کے مطابق ابھی تک مالی طور انڈی پینڈنٹ نہیں ہوسکے۔برطانوی شاہی خاندان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ پرنس ہیری کی مدد کرنا بھی چاہیں تو نہیں کرسکیں گے

کیونکہ ایک تو پرنس ہیری ان سے مدد نہیں لے گا، دوسرا شاہی خاندان کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ امریکہ میں مقیم شاہی جوڑے کے اخراجات اٹھاسکیں۔خبر کے مطابق پرنس ہیری ابھی تک اپنے باپ شہزادہ چارلس کی پرسنل انکم سے ادھار لے رہا ہے جو کہ وہ عنقریب اپنے باپ کو واپس کردے گا۔حال ہی میں پرنس ہیری کے ساتھ ایک امریکی تنظیم نے معاہدہ کیا ہے جس کے تحت وہ سال میں پچاس کے قریب اداروں میں لیکچر دے گا جن کا موضوع سماجی بہتری ہوگی۔ اس کے عوض اسے ایک ملین ڈالر ملے گا جس سے پرنس ہیری کی مالی مشکلات کم ہوسکیں گی۔یہ ہیں حالات اس شاہی خاندان کے جو دنیا کا سب سے قدیم اور سب سے زیادہ ممالک پر حکمران رہا۔ پرنس ہیری کو نہ تو کبھی دوران تعلیم کوئی خاص مدد مل سکی، نہ ہی اسے مہاراجوں کی طرح نوکری ملی، نہ ہی اس کے پاس اتنے وسائل ہیں کہ وہ لاس اینجلس میں اپنا گھر خرید سکے اور کاروبار شروع کرسکے۔دوسری طرف پاکستانی سیاستدانوں کو دیکھ لیں۔ان کے خاندانوں نے ساری عمر انکم ٹیکس ریٹرنز میں خسارہ ظاہر کیا لیکن ان کی اولادیں برطانیہ، دبئی اور یورپ میں اربوں کی جائیدادوں کی مالک ہیں ۔18 سال کی عمروں میں لندن میں فیکٹریاں اور فلیٹ خرید چکے تھے جبکہ برطانیہ کا شہزادہ ہیری 35 سال کی عمر میں دو کمروں کا فلیٹ تک نہیں خرید سکا۔اگر مغربی ممالک ترقی یافتہ ہیں اور پاکستان کے حالات ویسے کے ویسے ہی ہیں تو اس کی وجہ وہ مختلف رویے ہیں جو دونوں اطراف میں پائے جاتے ہیں۔مغرب میں آپ کو میرٹ، اصول پسندی اور ایمانداری ملے گی، پاکستان میں آپ کو سفارش، مالی بدعنوانی اور اقرباپروری ملے گی، ان سب کے ہوتے ہوئے آپ تاقیامت کبھی مغرب کا مقابلہ نہیں کرسکیں گے ۔ ۔ ۔ !!!

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

site-verification: a5f3ae327aefe7db9b1fdb6f7c6a8b26