آذربائیجان کی آرمینیا کے خلاف کامیابی کے پیچھے کس مسلمان ملک کا ہاتھ نکل آیا ؟ نام جان کر آپ کا دل خوش ہو جائے گا

لاہور (ویب ڈیسک) یونان اور ترکی کے مابین کشیدگی اس و قت عروج پر پہنچ گئی جب ترکی نے قبرص کے کھلے سمندر میں گیس تلاش کرنے کے لئے ’’اورچ‘‘ نامی ڈرلنگ بحری جہاز روانہ کیا جبکہ اس سے قبل اسرائیل، یونان، قبرص، اٹلی اور مصر بحیرۂ روم کے خطے میں گیس کی

نامور کالم نگار ڈاکٹر فرقان حمید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔موجودگی کے امکانات پر ایک مشترکہ معاہدے پر دستخط کرچکے تھے جبکہ ترکی کو فراموش کردیا گیا تھا۔ اِن ممالک کی جانب سے ترکی کو تنہا چھوڑنے پر ترکی نے جوابی کارروائی کی اور لیبیا کی قانونی حکومت کے ساتھ معاہدہ طے کرتے ہوئے قبرص کے کھلے سمندر میں یونان کے لئے مشکلات کھڑی کردیں۔ اگرچہ اس دوران فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے بھی مشرقِ وسطیٰ میں اپنا حلقہ اثر بڑھانے کی تگ و دو کی لیکن ترکی نے لیبیا میں اپنی پوزیشن مضبوط بناتے ہوئے میکرون کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا۔ صدر اردوان فرانسیسی صدر میکرون کو اسلام دشمن رویہ اختیار کرنے پر بھی سخت تنقید کا نشانہ بناچکے ہیں اور توہین آمیز خاکوں کی نمائش کو ایک بیمار ذہن کی عکاسی قرار دیتے ہوئے انہیں مریض قرار دے چکے ہیں جبکہ فرانس نے صدر اردوان کے اس بیان کے بعد ترکی کے اپنے سفیر کو واپس بلوا لیا ہے۔ترکی اِس وقت آذربائیجان کو ملنے والی کامیابی پر بھی بہت خوش ہے کیونکہ آذر بائیجان کی کامیابی کے پیچھے ترکی کا ہاتھ ہے۔ روس اِس بار صدر رجب طیب اردوان کی وجہ سے کھل کر آرمینیا کی حمایت کرنے سے گریز کررہا ہے اور روس کے اسی رویے نے آذربائیجان کے لیے کامیابی کے دروازے کھول دیے۔ روس اور ترکی خطے میں اپنا اثرو رسوخ قائم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اگرچہ علاقائی معاملات پر دونوں ممالک کے مابین اختلافات موجود ہیں، اس کے باوجود ترکی اور روس کے درمیان گہرے کاروباری تعلقات بھی ہیں۔ روس ترکی کا تیسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور وہ ترکی کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے والا سب سے اہم ملک ہے۔ ترکی نے نیٹو کا رکن ہونے کے باوجود امریکہ کی پروا کیے بغیر جس طریقے سے روس سے اینٹی میزائل سسٹم ایس400 خریدا ہے اور صدر ٹرمپ کے شدید دبائو اور انتباہ کے باوجود ٹیسٹ کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے، اس سے ترکی علاقے میں ایک نئی سپر پاور بن کر ابھر رہا ہے اور خطے میں مسلسل اپنی قوت میں اضافہ کرتا چلا آرہا ہے اور شاید اب اسے علاقائی سپر پاور بننے سے روکنے والا کوئی ملک یا قوت موجود نہیں ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.